اصحاب احمد (جلد 10) — Page 104
104 میں آپ کو فارغ کر دیا۔آپ نے دسمبر میں جو وصیت لکھوائی اس کے آغاز میں یہ کھوایا :۔بسم اللہ الرحمن الرحیم محمد ه فصلی علی رسولہ الکریم وعلى عبده السيح الموعود سب حمد اللہ تعالیٰ کے لئے اور درود اور سلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور اس کے خلیفہ برحق حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر سچے دل سے یقین رکھتا ہوں کہ آپ خدا کی طرف سے تھے اور حضرت مسیح موعود امتی نبی ہیں جو آنحضرت کے دین کی اشاعت کا کام کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک ہے اور حاضر ناظر ہے اور صفات کا ملہ کا مالک ہے۔اور ہر ایک نقص اور کمزوری سے پاک ہے۔فرشتے برحق ہیں رسول برحق ہیں۔مرنے کے بعد اٹھنا برحق ہے۔اور کتابیں برحق ہیں۔ان سب باتوں پر نیچے دل سے ایمان رکھتا ہوں۔اسلام کے تمام احکام نماز۔روزہ ، حج۔زکوۃ ، کلمہ۔نیکیاں کرنا۔اور بدیوں سے بچنا ان کو اسلام سمجھتا ہوں۔تمام عبادتوں کا مغز نماز ہے۔نماز کا مغز دعا ہے جو خشوع قلب سے کی جاوے۔دعا مومن کے لئے بڑا حربہ ہے کیونکہ یہ مشکلات کی کنجی ہے۔مومن کو اللہ تعالیٰ غیب سے روزی عطا فرماتا ہے۔اللہ تعالیٰ شرک سے بیزار ہے۔میں اس پر تو کل رکھتا ہوں اسی ایمان پر قائم ہوں۔ایمان کا مغز یقین ہے۔اعمال کا مغز تقویٰ ہے آخری دم واپسیں تک انشاء اللہ اس ایمان پر قائم رہوں گا۔اے اللہ ! با ایمان اس جہان سے اٹھانا اور خاتمہ بالخیر کرنا اسی ایمان پر قائم رہنے کے لئے اپنی وصیت کرتا ہوں کہ چونکہ زندگی کا کچھ اعتبار نہیں اس لئے آج مورخہ ۶ فتح ۱۳۲۱ ہش مطابق ۶ دسمبر ۱۹۴۲ء مندرجہ ذیل یادداشتیں تحریر کرواتا ہوں آپ نے وصیت میں جو کچھ کسی کو دینا تھا یا کسی سے لینا تھا۔لکھوا دیا۔ایک خاتون فوت ہو گئی تھی۔جس کا زیور اور نقدی پ کے پاس امانت تھی لیکن اس کے ورثاء کو علم نہ تھا اس لئے اس معاملہ کو دارالقضاء قادیان کے سپرد کرنے کی۔اور اپنی نعش بہشتی مقبرہ قادیان میں دفن کرنے نیز جائیداد کی تقسیم شرعی کی تاکید کی۔اور یہ بھی ذکر کیا کہ ۱۹۳۰ ء والا ٹرسٹی نامہ اور اس کا ضمیمہ سید نا حضرت خلیفہ امسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کو دکھا کر تحریر کیا گیا تھا۔آپ نے یہ بھی وصیت کی کہ مسجد احمد یہ کریام میں ایک کمرہ کا اضافہ آپ کا ایک قطعہ اراضی فروخت کر کے تعمیر کیا جائے جو مستورات کے لئے جمعہ پڑھنے کے کام آئے۔اور دیگر ایام میں بطور مہمان خانہ استعمال ہو سکے۔وفات سے چند روز پہلے آپ نے مزید یہ وصیت لکھوائی کہ وفات کی اطلاع بذریعہ تار حضور کی خدمت میں اور دفتر بہشتی مقبرہ کو دی جائے اور نعش قادیان پہنچائی جائے۔ارد گرد کے مواضعات کے احباب جو جنازہ پر جمع ہوں انہیں