اصحاب احمد (جلد 10) — Page 93
93 خدمات سلسلہ :۔(۱) بیعت و تائید خلافت :۔خلافت اولیٰ کی بیعت کرنے والوں میں آپ کا شمار ان احباب میں تھا کہ جنہوں نے مرکز سے اطلاع پہنچے بغیر گویا بصیرت اور فراست سے حضرت مولوی نورالدین صاحب کی بیعت کا خط بطور خلیفہ اول کے تحریر کر دیا تھا۔بدر میں یہ رقم کیا گیا ہے کہ ایسے خطوط اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ خلافت اولی کا قیام تائید الہی سے عمل میں آیا ہے۔چنانچہ بطور مثال جن پانچ احباب کے خطوط کا ذکر کیا گیا ہے اس میں مرقوم ہے کہ:۔چوہدری غلام احمد صاحب نے کر یام سے لکھا ( کہ ) حاضرین احباب نے متفق ہو کر آپ کے ہاتھ پر بیعت کی ہے اس لئے یہ عاجز اور دیگر احمدیان الوصیۃ کے بموجب آپ کے ہاتھ پر تحریری بیعت کرتے ہیں“ (26) ۱۵ مارچ ۱۹۱۴ء کو یہ اعلان کیا گیا تھا کہ حضرت خلیفہ اول رحلت فرما گئے اور حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ قرار پائے۔جن کی بیعت دو ہزار کے قریب احباب نے کی اور آپ نے حضرت مرحوم کا جنازہ پڑھایا۔اور حضرت مسیح موعود کے دائیں جانب تدفین عمل میں آئی۔حضرت ام المومنین اور اہل بیت بقیہ حاشہ صفحہ سابقہ: گرمی کی شدت کے حملہ سے مرحوم کی دماغ کی رگ پھٹ گئی جس سے آنا فانا موت واقع ہوگئی۔ربوہ میں حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے جنازہ پڑھایا اور ان کو بہشتی مقبرہ میں دفن کیا گیا۔مرحوم کے حالات الفضل ۷/۵۰،۱۸/۷/۵۰/ ۲۹ میں شائع ہو چکے ہیں۔آپ کے اقارب میں اختلاف پیدا ہوا۔آیا صحیح علاج میسر آجانے سے مرحوم کی زندگی بچ جاتی یا نہ۔کیونکہ علاج میں کئی غلطیاں ہوئیں۔اور پورا علاج میسر نہ آیا۔یا یہ سمجھا جائے کہ موت ہی مقدر تھی۔اس بارہ میں حضرت مرزا بشیر الدین احمد صاحب زاد عزہ کی خدمت میں لکھا گیا۔آپ نے جو جواب دیاوہ الفضل ۸/۸/۵۰ اور ۱۲۶/۸/۱۵۰ اور ۹/۵۰/ ۳۰ میں شائع ہوا ہے مقدم الذکر میں دارالرحمت مورخہ ۴/۸/۵۰ میں آپ تحریر فرماتے ہیں کہ:۔گو میں اس وقت بیمار تھا مگر حاجی غلام احمد صاحب مرحوم سکنہ کر یام کی نیکی اور اخلاص اور علاقہ کی جماعت میں ان کی ممتاز پوزیشن کی وجہ سے میں نے ضروری خیال کیا کہ جو سوال ان کے مرحوم بچے کی وفات کے متعلق پیدا ہوا ہے اس کا مختصر سا جواب دے کر ان کے عزیزوں کی تسلی اور راہنمائی کی کوشش کروں۔“ حاجی صاحب کے دوسرے صاحبزادہ چوہدری احمد دین خان صاحب بی۔اے بنک آف بہاولپور۔لائل پور شہر میں ملازم ہیں اور اپنے خاندن کی جائیداد کا انتظام و انصرام بھی ان کے سپرد ہے۔كَانَ اللَّهُ مَعَهُ ( آمین )