اصحاب احمد (جلد 10) — Page 79
79 کر دینی گفتگو شروع کی۔اثنائے گفتگو میں حضرت مرزا صاحب کا بھی ذکر آ گیا۔انہوں نے فرمایا میں آپ کا مرید ہوں۔تو میں بہت خوش ہوا۔اور نجابت علی خانصاحب کو اس کی اطلاع کی۔ڈاکٹر صاحب ہمارے پاس آتے جاتے رہے اور انہوں نے ایک کتاب آئینہ کمالات اسلام ڈاکٹر اسماعیل خان صاحب گوڑیانی جو ان دنوں گڑھ شنکر میں متعین تھے، سے لے کر ہمیں بھیجی۔اس سے ہمیں بہت فائدہ پہنچا۔ان دنوں جو شخص عمدگی سے نماز پڑھتا اور انگریزی خوان با بوڈاڑھی رکھتا اس کو احمدی یقین کر لیا جاتا تھا۔چنانچہ ایک ڈپٹی صاحب ایک گاؤں میں گئے ایک تعلیم یافتہ سفید پوش انگریزی خوان جس نے داڑھی رکھی ہوئی تھی کو ڈپٹی صاحب نے کہا کہ کیا تو مرزائی ہے؟ اس نے کہا نہیں۔سفید پوش نے پوچھا جناب نے کسی علامت سے معلوم کیا ڈپٹی صاحب نے کہا کہ تعلیم یافتہ طبقہ سے صرف مرزائی عموماً ڈاڑھی رکھتے ہیں۔سفر قادیان :۔آخر جنوری یا شروع فروری ۱۹۰۳ء میں خاکسار راقم اور بشارت علی خاں پوسٹ ماسٹر پنشنر قادیان دارلامان کی طرف روانہ ہوئے۔جب بٹالہ سے یکہ پر سوار ہوئے تو تیسرا آدمی قادیان شریف کا تھا جو ہندو تھا اور معمر تھا۔اس سے میں نے حالات حضرت اقدس دریافت کرنے شروع کئے۔اس نے کہا کہ مرزا صاحب بہت نیک آدمی تھے بہت عابد تھے مگر چند سالوں سے کچھ جھوٹ ان کی طرف لگ گیا ہے۔یکہ ہمارا مہمان خانہ موجودہ کے دروازہ پر ٹھہرا اسباب اتارا گیا۔پہلا آدمی جو ہمیں ملا وہ فلاسفر الہ دین تھا۔انہوں نے اسباب اپنی حفاظت میں رکھ کر فرمایا جماعت تیار ہے ہم مسجد اقصیٰ کو چلے گئے۔عصر کی نماز ہو چکی تھی۔درس قرآن کریم شروع ہونے والا تھا۔عصر کی نماز ادا کی اور درس میں شامل ہو گئے۔حضرت مولوی نورالدین صاحب اینٹوں کی طرف جو مینارہ کے لئے جمع تھیں پیٹھ کر کے بیٹھ گئے۔صحن مسجد اقصیٰ کے اردگر داحمدی احباب قرآن کریم ہاتھوں میں لئے بیٹھے تھے مولوی صاحب کے سر پر سیاہ لنگی بندھی اور سیاہ رنگ کا چونہ زیب تن تھا۔گبرون کا پاجامہ پہنے ہوئے تھے۔قرآن کریم سے پارہ دوم کے ثلث کے قریب کے حصہ جس میں طلاق کا ذکر ہے آپ نے خاص پیرا یہ میں ایک رکوع تلاوت فرمایا۔جو سننے والوں پر ایک خاص اور عجیب اثر پیدا کر رہا تھا۔پھر معارف قرآن اور تفسیر بیان کرنی شروع کی۔ہم وعظ تو سنا کرتے تھے مگر یہاں اور ہی سماں تھا ہمارا دل تو کھینچا گیا۔میں نے قریب ہی بیٹھے ہوئے ایک شخص سے پوچھا کہ یہی شخص مسیح موعود ہیں؟ اس نے کہا۔یہ تو مولوی نورالدین صاحب ہیں اس پر میں اور بھی خوش ہوا کہ جس دربار کے مولوی ایسے باکمال ہیں وہ خود کیسے بے نظیر ہوں گے۔میں نے