اصحاب احمد (جلد 10) — Page 68
68 یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ آپ کے صاحبزادہ خویم شیخ عبدالکریم صاحب شر ما مولوی فاضل مشرقی افریقہ میں بطور مجاہد اسلام مصروف خدمت ہیں۔دوسری بارسلسلہ کی طرف سے بھجوائے گئے ہیں اور آپ کے فرزند شیخ عبدالرشید صاحب شر ما شکار پور (سابق سندھ ) کی جماعت کے صدر ہیں۔اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی یاد : بحمد اللہ بعد ازاں والدہ صاحبہ قادیان آئیں اور انہوں نے اسلام اور احمدیت کو قبول کر لیا۔ان کا نام سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے حمیدہ رکھا۔۱۹۳۵ء میں فوت ہو کر بہشتی مقبرہ قادیان میں دفن ہوئیں۔اس وقت جب میں یہ سوچتا ہوں کہ میں کس طرح مسلمان ہو گیا تو سخت حیران ہوتا ہوں میرے وہ دوست جو مجھ سے واقف ہیں وہ میری حالت کو جانتے ہیں میری طبیعت میں حجاب زیادہ ہے مجھ میں بھلا یہ طاقت کہاں تھی کہ میں از خودمسلمان ہو جاتا اور پھر سب رکاوٹوں اور مخالفتوں کا مقابلہ کر سکتا۔یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل واحسان ہی تھا کہ اس نے مجھ کو اسلام قبول کرنے کی توفیق بخشی۔اور نہ صرف یہ کہ میں مسلمان ہو گیا بلکہ یہ سعادت بھی ملی کہ میں نے سیدنا حضرت مسیح موعود کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور آپ کے دست مبارک پر بیعت کی سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِيم۔پھر دنیوی لحاظ سے بھی میں گھاٹے میں نہیں رہا۔میں اکیلا قادیان آیا تھا اس وقت میری کیا حالت تھی ایک جوتی ایک دو جوڑے کپڑوں کے اور چند روپے یہ میرا اثاثہ تھا لیکن میرے مولیٰ نے مجھ کو ضائع نہیں کیا۔میں نے وطن چھوڑا تھا اس سے بہتر وطن مجھ کوملا بیوی چھوڑی تھی اللہ تعالیٰ نے مجھ کو بیوی بھی دی دو بچوں کو مجھے چھوڑنا پڑا تھا۔اللہ تعالیٰ نے مجھ کو پانچ لڑکے اور چار لڑکیاں عنایت کیں۔رشتہ داروں اور برادری سے تعلق تو ڑا تھا یہاں آکر ان سے بہتر رشتہ دار اور محبت کرنے والی برادری ملی۔رہنے کے لئے مکان دیا مجھ کو اپنی محسنہ والدہ کو چھوڑنا پڑا تھا جو مجھ کوسب سے زیادہ عزیز تھیں۔بظاہر اس کمی کو پورا کرنا مشکل تھا۔پر میرے رب نے یہ کمی پوری کی اور میری الفضل بابت ۱۵ نومبر ۱۹۵۹ء صفہ کے کالم ۱) میں ایک شخص کے لئے درخواست دعا کے طور پر اور ۲۰ جون ۱۹۶۱ء (صفہ ۶ کالم ۲) میں انصار اللہ کی طرف سے قائم کردہ امتحان میں کامیاب ہونے کی وجہ سے شیخ عبدالرحیم صاحب کا ذکر موجود ہے۔محترمہ موصوفہ کے مفصل حالات ایک اور کتاب میں درج کئے جارہے ہیں۔