اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 41 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 41

41 شیخ عبدالرحیم صاحب شرما (از متولف) خاکسار کے تقاضے پر محترم شیخ عبدالرحیم صاحب شرما نے ۱۹۵۷ء میں اپنے قبول اسلام واحمدیت کے حالات قلمبند فرمائے جو آپ کے ہی الفاظ میں ہدیہ قارئین کرام کرتا ہوں تالیف کی خاطر شاذ کے طور پر کسی جگہ خلاصہ یا معمولی تبدیلی کی گئی ہے۔خاندانی حالات:۔محترم شیخ عبدالرحیم صاحب شر ماتحریرفرماتے ہیں:۔خاکسار کا سابق نام کشن لعل تھا۔والد صاحب کا نام پنڈت رلیا رام ولد پنڈت مقصدی رام ولد پنڈت گنیش داس ولد بھوانی داس ولد جوالا داس ولد گلزاری رام ساکن قصبہ بنور ریاست پٹیالہ قوم برہمن سارسوت گوت جھائیں۔والدہ صاحبہ کا نام جمنا دیوی تھا جو د یوی چند سب انسپکٹر پولیس قوم بر همن گوت بھاردواج ساکن سنور ریاست پٹیالہ کی لڑکی تھیں۔ہمارے خاندان کا آبائی پیشہ پر وہتی تھا یعنی ہمارے خاندان کے افرا د نسلاً بعد نسل ہندووں میں بعض اقوام مثلاً درزی۔دھوبی۔ترکھان چھیے وغیرہ کے کل گرو یعنی پر دہت یعنی پیر سمجھے جاتے تھے۔ضلع لدھیانہ، پٹیالہ، انبالہ کی مندرجہ بالا اقوام ہماری مرید تھیں۔میرے والد صاحب نے دوکانداری شروع کی۔شاہی بنجوتی یعنی ساہوکارہ کرتے تھے۔دادا صاحب حسب دستور پر وہتی کرتے تھے۔میرے والد صاحب کی خوش خلقی اور حسن معاملکی کی وجہ سے ان کا کاروبار خوب چل نکلا تھا۔والد صاحب کی بازار سواہیاں قصبہ بنوڑ میں دکان تھی جو قصبہ بھر میں سب سے بڑی اور مشہور دکان سمجھی جاتی تھی۔ولادت تعلیم اور شادی:۔میری پیدائش غالبا ۱۸۸۷ء یا ۱۸۸۸ء میں ہوئی۔ہمارا خاندان بالعموم ہندی اور سنسکرت کی تعلیم حاصل کرتا تھا۔اردو اور انگریزی تعلیم حاصل کرنے کا رواج ہمارے خاندان میں نہیں تھا۔میرے تایا سنہاری رام ٹھیکیدار تعمیرات ریاست پٹیالہ کے زور دینے پر میرے والد صاحب نے سب سے پہلے مجھے مروجہ تعلیم دلوانی شروع کی۔ابتدائی تین جماعتیں میں نے اپنے قصبہ کے سکول میں پاس کیس پھرتا یا صاحب کے اصرار پر تعلیم کے لئے والدہ صاحب مجھے پٹیالہ چھوڑ آئیں۔چار سال وہاں تعلیم حاصل کرتا رہا۔ہمارے خاندان میں بچپن کی شادی کا رواج تھا۔چنانچہ طالب علمی کے زمانہ میں ہی میری شادی کر دی گئی۔اسی اثناء میں میرے