اصحاب احمد (جلد 10) — Page 38
38 ۳۱ جنوری ۱۹۴۹ ء تک آپ نے تحریک جدید میں کام کیا۔بعد ازاں آپ نے چند ماہ محاسب صدر انجمن احمدیہ کا کام کیا۔بقیہ حاشیہ:۔رکھتے جتنے سر بر آوردہ ممبران کی انجمن کے ہیں ان کا یہی حال ہے اور مولوی صاحب ہر ایک کے متعلق انجمن میں شکایت کر چکے ہیں اور بعض اوقات ناراض ہو کر استعفیٰ بھی دیدیتے ہیں۔حضرت مولانا غلام حسن صاحب نے ایک دو دفعہ مولوی صاحب کے رویہ پر اعتراض کیا تو ان کو مہری سے خارج کرنے کے لئے متعدد دفعہ تحریک کی۔ڈاکٹر فیض علی صاحب صابر نے ماسٹر صاحب پر پیغامیوں کے اعتراض کا کہ بہائی ہو گئے ہیں الفضل مورخہ ۴/۷/۴۴ میں شافی جواب دیا ہے۔آپ کی بیعت خلافت پر رسالہ ریویو آف ریلیجنز نے لکھا کہ:۔احباب جماعت خصوصاً وہ دوست جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور حضرت خلیفہ اول کے زمانے سے تعلق رکھتے ہیں یہ سن کر خوش ہونگے کہ پچھلے جمعہ مورخہ 1 مارچ ۴۴ء میں مکرم ماسٹر فقیر اللہ صاحب اور خان بہادرمیاں محمد صادق صاحب پنشنر غیر مبائعین نے حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے دست مبارک پر بعد نماز جمعہ بیعت خلافت کی۔ماسٹر فقیر اللہ صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے کے آدمی ہیں تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان کے پرانے استاد ہیں اور حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ کے استاد ہونے کا بھی فخر رکھتے ہیں۔بعض اوقات ریویو آف ریلیجنز کی مینیجری کے فرائض بھی ادا کیا کرتے تھے۔مولوی محمد علی صاحب پریذیڈنٹ انجمن اشاعت اسلام لاہور جب قادیان سے چلے گئے تو ماسٹر صاحب موصوف بھی ان کے ساتھ ہی یہاں سے لاہور چلے گئے۔آپ غیر مبائعین کے چوٹی کے آدمیوں میں سے تھے اور اپنے خیالات پر سختی سے قائم تھے۔مگر آخر میں سال غیر مبائعین میں زندگی گزارنے کے بعد اور ان کے اندرونی اور بیرونی حالات کا مطالعہ کرنے کے بعد پھر قادیان کی طرف رجوع کیا جو خدا کے رسول کی تخت گاہ اور مدینہ اسیح ہے ہمیں ماسٹر صاحب مکرم کے واپس آنے کی بہت خوشی ہے اور دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو بقیہ ایام زندگی حضرت مصلح موعود ایدہ اللہ کی صحبت میں گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین (11) ماسٹر صاحب فرماتے ہیں کہ بیعت کے بعد جب میں پہلی دفعہ حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب سے ملا ہوں تو فرمانے لگے کہ مجھے آپ کی بیعت سے مشرف ہونے پر بڑی خوشی ہوئی ہے میری ہمیشہ یہ خواہش رہتی تھی کہ آپ یہاں آجائیں۔سوالحمد للہ کہ آپ آگئے (12) یہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہوا کہ ماسٹر صاحب کو بیعت خلافت کی توفیق عطا ہوئی۔دراصل آپ کو حضرت خلیفہ ثانی ایدہ اللہ تعالیٰ سے عناد نہیں تھا جیسا کہ بہت سے دوسروں کو تھا۔جو قلوب صافیہ رکھتے تھے۔بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر۔پھر مئی میں حضور نے فرمایا کہ چونکہ یہ پہلا سال ہے اور ربوہ میں ابھی خاطر خواہ انتظام نہیں ہوا۔اور آپ کی عمر زیادہ