اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 499 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 499

499 حضرت منشی ظفر احمد صاحب پڑھا ئیں بلکہ ان سے بھی کئی بار آپ نے یہ بات کہی اور عہد بھی لیا کہ نماز جنازہ آپ نے پڑھانی ہوگی۔ماموں صاحب فرماتے کہ موت اور زندگی کا کیا اعتبار کہ کس کی باری پہلے آئے اس پر بھی اصراراً کہتے کہ میری وفات پہلے واقع ہوگی اور آپ نے میرا جنازہ پڑھانا ہوگا۔بذریعہ تار ماموں جان کو بلوایا گیا۔ایک کثیر مجمع کے ساتھ جس میں کپورتھلہ پھگواڑہ اور حاجی پور وغیرہ کے غیر از جماعت افراد بھی شامل تھے آپ نے نماز جنازہ پڑھائی اور والد صاحب کے باغیچہ میں تدفین عمل میں آئی اسی مقام کے متعلق آپ نے چار ماہ قبل فرمایا تھا کہ یہاں آپ کو دفن کیا جائے۔حضرت ماموں جان اور حضرت والد صاحب میں جسقد ربا ہم محبت تھی نا قابل بیان ہے اس کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ ہماری درخواست پر ماموں جان کا قیام کچھ روز حاجی پور میں رہا آپ ہر وقت چشم پر نم رہے اور بار بار فرماتے کہ میں اکیلا رہ گیا ہوں۔اتنا عرصہ گذرنے پر بھی آپ اس صدمہ کو شدت کے ساتھ محسوس کرتے ہیں۔جی خاتمہ بالخیر کے متعلق خواہیں حدیث شریف الْمُوَ مَنْ يَرى ويُرى لَهُ کے مطابق حضرت منشی صاحب کے اقارب نے متعد در ویا قبل و بعد وفات آپ کے حسن خاتمہ کے متعلق دیکھیں۔منشی کظیم الرحمن صاحب کو ایک رؤیا ہوئی جسے وہ بظاہر بہت خطر ناک خیال کرتے تھے۔آپ نے بیان مصدقہ منجانب حضرت منشی ظفر احمد صاحب ( الحکم سے ستمبر ۱۹۳۵ صفحہ ۵ کالم ۳ صفحہ ۶ کالم۱) شیخ لطف المنان صاحب ابن منشی تنظیم الرحمن صاحب نے لکھا کہ بھارت سرکار نے حضرت منشی صاحب کی قبر پختہ کروا کے یہ کتبہ لگوا دیا ہے کہ ایک مسلمان بزرگ کی قبر“ (الفضل، ار اپریل ۱۹۶۰ء صفحہ ۵ کالم ۱) منشی حبیب الرحمن صاحب کی وفات دسمبر ۱۹۳۰ء میں ہوئی آپ کی عمر کے بارے مختلف بیانات ہیں مثلاً بیان منشی تنظیم الرحمن صاحب کہ بوقت وفات والد صاحب کی عمر تریسٹھ سال تھی (الحکم ۷ ستمبر ۱۹۳۵ء صفحہ ۵ کالم (۲) منشی تنظیم الرحمن صاحب کا ہی دوسرا بیان ہے کہ حاجی محمد ولی اللہ صاحب کو براہین احمدیہ میسر آنے کے وقت ان کی عمر پندرہ سال کی تھی (الحکم ۲۸ جولائی ۱۹۳۵ء صفحہ ۷ے کالم ۳ وصفحہ ۸ کالم) اس حساب سے والد صاحب کی عمر اکسٹھ سال بنتی ہے۔تیسرا بیان اس وقت والد صاحب کی عمر قریباً بارہ سال ہونے کا ہے۔(ایضا صفحہ ۷ کالم ۳) منشی حبیب الرحمن صاحب بھی بیان کرتے ہیں کہ جس وقت براہین احمدیہ کے بارے اشتہار آئے تو میری عمر تقریباً تیرہ سال کی تھی ( قلمی کا پی صفحہ ۱۰ تا۱۲) اس حساب سے انکی عمر انسٹھ سال کی ہوتی ہے۔(باقی اگلے صفحہ پر )