اصحاب احمد (جلد 10) — Page 487
487 گھروں پر تباہی اور بربادی آئی۔بر بادی کے حالات معروف ہوتے ہیں۔برادری کے باہر تعلق پیدا کرنا سہل نہیں ہوتا۔منشی صاحب کی محتاط طبیعت فیصلہ کرنے میں مشکل محسوس کرتی تھی۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب کی معاونت سے ان کے سمدھی با بومحمدعلی خاں صاحب شاہجہانپوری کے ہاں فریقین کے استخارہ کے بعد گویا اولیس رشته بیرون برادری شیخ مسعود الرحمن صاحب کا ہوا اور بفضلہ تعالیٰ مبارک ثابت ہوا۔۲- آپ کے دوست۔انسان اپنے دوستوں سے شناخت کیا جاتا ہے کہ کیسی افتاد کا مالک ہے آپ کے دوست حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی ، حضرت مفتی محمد صادق صاحب، حضرت حافظ مختار احمد صاحب شاہجہانپوری ، حضرت عرفانی صاحب اور حضرت مولوی عبدالرحیم صاحب غیر تھے۔رضی اللہ عنہم۔۳- قابلیت و اعزاز ۱۹۲۳ء میں حضرت عرفانی صاحب نے مہا راجہ صاحب کپور تھلہ کو منشی ح الرحمن صاحب کی قابلیت سے استفادہ کرنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے تحریر کیا کہ۔و منشی حبیب الرحمن صاحب ایسی قابلیت کے آدمی کی خدمات سے ریاست کا عملی فائدہ نہ اٹھانا ریاست کپورتھلہ سے اس روشن ترین عہد میں ایک تعجب خیز امر ضرور ہے۔اگر چہ خود منشی صاحب کی طبیعت گوشہ نشین واقع ہوئی ہے۔لیکن وہ خدا داد قابلیت سے اپنے۔علاقہ اور والی کی ) بہت بڑی خدمت کر سکتے ہیں۔اگر ان کو مجبور کیا جاتا یا ان کی خدمات کی خواہش کی جاتی کوئی تعجب نہ ہوتا کہ منشی حبیب الرحمن ایسے مذہبی انسان کو ان کا مذہبی فرض آگے بڑھنے کا حکم دیتا۔ان کی قابلیت اس کی حقدار ضرور ہے کہ ریاست اپنی رعایا کے مفاد کیلئے اس سے فائدہ اٹھائے ان کی ریاست میں ایک ایسا شخص موجود ہے جو اپنی نیکی اور معاملہ فہمی میں مشہور اور اپنی قابلیت کے لحاظ سے ممتاز ہے وہ سکنج عافیت میں پڑے رہنے پر شاداں ہیں مگر رعایا کے مفاد اسی امر کے داعی ہیں کہ انہیں اس گوشہ عافیت سے باہر نکالا جائے۔ان کا بقیہ حاشیہ سابقہ سکیم کے تحت بیرون ملک جانے اور واپس آنے والے مجاہدین کے الوداع استقبال کا انتظام و دیگر متعلقہ انتظامات کرتے۔حضرت خلیفہ امسیح الثالث رحمۃ اللہ علیہ کے ورود کراچی کے وقت محترم امیر صاحب کی طرف سے جو منتظمہ کمیٹی مقرر کی جاتی اس میں شیخ صاحب بھی اس کے ممبر ہوتے۔ڈیوٹی کے طور پر کئی دفعہ آپ حضور کے ہمراہ موٹر میں شانہ بشانہ ساتھ بیٹھ کر جانے کی سعاست پاتے تھے۔بیان منشی کظیم الرحمن صاحب مصدقہ منجانب حضرت منشی ظفر احمد صاحب (احکم ۱۲۸ جولائی ۱۹۳۵ صفحہ۸۔کالم ۳۶۲) بیان شیخ لطف المنان صاحب ( الفضل ۹ را پریل ۱۹۶۰ء صفحه ۵)