اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 428 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 428

428 کر فضل سب پہ یکسر، رحمت سے کر معطر یہ روز کر مبارک سبحان من یرانی اے واحد یگانہ، اے خالقِ زمانہ میری دعائیں سن لے اور عرض چاکر انہ تیرے سپرد تینوں دین کے قمر بنانا یہ روز کر مبارک سبحان من یرانی یہ تینوں تیرے چاکر، ہوویں جہاں کے رہبر یہ ہادی جہاں ہوں یہ ہوں نور یکسر (۸۰) یہ مرجع شہاں ہوں یہ ہوں مہر انور یہ روز کر مبارک سبحان من یرانی تاریخ احمدیت جلد دوم کے مطابق حضرت صاحبزادہ صاحب نے قرآن مجید حضرت حافظ احمد اللہ صاحب سے پڑھا تھا اور ے جون ۱۸۹۷ء کی تقریب امین میں بیرونِ قادیان کے احباب نے بھی شرکت کی تھی اور اس خوشی میں حضرت اقدس کی طرف سے حاضرین کو پر تکلف دعوت دی گئی تھی اور اسی روز حضور نے یہ نظم دی تھی جو آپ کے ارشاد پر اسی روز زیور طبع سے مزین ہوئی تھی۔(۳) میراں بخش نامی ایک مجذوب قادیان میں رہتا تھا اور دن رات کو چوں میں پھرتارہتا۔کبھی رات کو دو تین بجے مسجد مبارک میں اذان دے دیتا۔احباب اذان فجر سمجھ کر اٹھ آتے۔رفتہ رفتہ سب کو علم ہو گیا اور وہ اس کی اذان پہچان لیتے تھے۔البتہ نا واقف مہمان تکلیف پاتے تھے۔حضور کا حکم تھا کہ اسے لنگر خانہ سے کھانا مل جایا کرے۔قادیان میں میں تھا۔ایک روز حضور صبح کو سیر کے لئے تشریف لے جارہے تھے۔وہ سامنے سے آ گیا۔حضور ٹھہر گئے اس نے حضور سے خوب معانقہ کیا۔اور بار بار معانقہ کرتا رہا۔جب وہ معانقہ کر چکا تو حضور نے پوچھا۔"راضی ہیں ؟ اس نے کہا ہاں مجھے لنگر سے دال اچھی نہیں ملتی حضور نے حکم دیا کہ اسے کھانا اچھا دیا کریں۔اور حضور روانہ ہو گئے۔وہ بہت خوش ہوا۔اور کہنے لگا کہ ”ہن ناں دین تاں‘ کہ اب بھلا لنگر خانہ والے کھانا اچھانہ دیں تو دیکھیں) (۴) جب حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب کی شادی تھی تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے بھی اس موقع پر قادیان بلایا تھا۔بارات پانچ چھ افراد پر مشتمل تھی بارات قادیان پہنچی تو میں قادیان میں ہی تھا۔اس موقع پر شادی کی کتر وفر اور دھوم دھام اور کوئی رسم وغیرہ نہ تھی۔کسی دوست نے دوڑ کر حضور کی خدمت میں اطلاع دی کہ بارات آ گئی ہے۔تو حضور نے سادگی سے فرمایا کہ آگئی ہے تو آنے دو“ (۵) بابت روح کیوڑہ۔ایک دن میں نے حسب معمول صبح کو حضور کی خدمت میں اطلاع کروائی۔حضور نے مجھے اندر بلوالیا۔فرمایا کہ روح کیوڑہ آیا ہوا ہے۔اسے بوتلوں میں بھرنا ہے۔حضور اٹھے اور روح کیوڑہ کے دو کنستر اٹھا لائے۔میرے اصرار پر غالباً یہ خیال کر کے کہ میں حضور کو بوتلیں بھرنے نہ دوں گا۔فرمایا