اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 425 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 425

425 بموجب شرع محمد بانی و واقف مسجد خود متولی ہو سکتا ہے اگر وہ بلا متولی بنانے کے فوت ہو جاوے تو اس کی اولا دمتولی ہوسکتی ہے۔مقدمہ حال ( میں ) مدعی حاجی صاحب مرحوم کا بھیجا حقیقی ہے اور حاجی صاحب نے جو اپنی اخیر وصیت مورخہ ۱۲ / بسا کھ ۴۶ بکر می نمبرسی - ایف-سی- صاحب بہادر سپر نٹنڈنٹ ریاست ۱۲ را پریل ۱۸۸۹ء کو کی ، اس کی نقل مشمولہ مثل کے ملاحظہ سے ظاہر ہے کہ اس میں نسبت جائداد غیر منقولہ عبارت ذیل میں درج ہے۔گھماؤں معافی مسجد کپورتھلہ واسطے مصارف مسجد کے حبیب الرحمن ( مدعی حال ) حسب عمل درآمد حال عمل کرے گا۔اس میں وہ وہانہ چاہ لاگست میرے سے تیار ہوتی ہیں۔“ اس عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ حاجی صاحب نے مسجد کے مصارف کا انتظام مدعی کے سپر دکیا۔گولفظ متولی استعمال نہیں کیا گیا۔مگر یہ عبارت مدعی کے متولی مسجد قرار دئے جانے کی نسبت بخوبی دلالت کرتی ہے اور عبدالغنی مدعا علیہ کے بیان مؤرخہ ۹ ماگھ ۱۹۲۰ میں درج ہے۔کہ محکمہ نظامت سے مدعی کو مسجد کی حالت درست کرنے کے واسطے مہلت مل چکی ہے اس سے بھی ظاہر کہ حکام بالا دست کی طرف سے بھی مدعی ہی منتظم مسجد تسلیم کیا گیا ہے۔اور کثیر التعداد شہادت پیش کردہ سے بھی یہ ثابت ہے کہ مسجد کے شکست ریخت ڈول موٹہ صف امام وغیرہ کا انتظام برابر اس وقت تک مدعی ہی کرتا رہا ہے۔ایسی صورت میں مدعی کا متولی مسجد متنازعہ ہونا بلا شبہ ثابت ہے جبکہ مدعی متولی مسجد ثابت ہو چکا تو مدعی کو بموجب فیصلہ پر یوی کونسل مورخه ۲۱ فروری ۱۸۹۱ء مقدمه اپیل فضل کریم وغیرہ ا پیلانٹ بنام حاجی مولا بخش وغیرہ رسپانڈنٹ مسجد میں کسی غیر اسلام کے مداخلت کرنے اور افعال خلاف شرع محمدی کے ہونے سے ممانعت کرنے کے حقوق حاصل ہیں۔مدعی قبول کرتا ہے کہ وہ مرید مرزا صاحب قادیان کا ہے۔اور مدعا علیہم کہتے ہیں کہ مریدان مرزا صاحب اہل سنت جماعت سے خارج ہیں۔جن کے واسطے مسجد کا وقف ہونا اوپر ثابت ہو چکا ہے۔اب دیکھنا اس امر کا ضروری ہے آیا مریدان مرزا صاحب اہل سنت جماعت سے خارج ہیں۔یعنی فتوای کفر کا ان پر دیا جا سکتا ہے۔شرع محمد ٹی مؤلفہ مسٹر امیر علی صاحب سے صاف ظاہر ہے کہ مسلمان وہ شخص ہے جو کہ خدا کو ایک جانے اور پیغمبر صاحب یعنی محمد صاحب کو رسول الله صدق دل سے تصور کرے اور جو شخص ان دونوں کو یا دونوں میں سے ایک کو تسلیم نہ کرے، وہ کافر ہے۔مرزا صاحب یا مریدان مرزا صاحب کفر کی اس تعریف میں نہیں آسکتے، کیونکہ وہ بلا شبہ خدا کو ایک اور محمد صاحب کو رسول اللہ تسلیم کرتے ہیں۔قرآن پر ان کا پورا ایمان ہے۔ایسی صورت مدعاعلیہم کی محض سینہ زورہی ہے کہ مرزا صاحب یا مریدان صاحب کو اہل سنت جماعت سے خارج یہ لفظ صحیح طور پر پڑھا نہیں جاتا۔اس طرح لکھا ہوا ہے ” گینا نو (مؤلف)