اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 388 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 388

388 خدا تعالیٰ کا فضل ہوگا۔چنانچہ میرے رسالہ کتاب البرية میں یہ تمام الہامات درج ہیں جو قبل از وقت دوستوں کو سنائے گئے اور پھر انہیں کے لئے کتاب البریہ بھی تالیف ہوئی۔تا ہمیشہ کے لئے ان کو یادر ہے کہ جو کچھ قبل از مقدمہ ان دوستوں کو خبر دی گئی وہ سب باتیں کیسی صفائی سے ان کے روبروہی پوری ہو گئیں۔یہ مقدمہ اس طرح سے ہوا کہ ایک شخص عبدالمجید نام نے عیسائیوں کے سکھلانے پر مجسٹریٹ ضلع امرتسر کے روبرو اظہار دیے کہ مجھے مرزا غلام احمد نے ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک کے قتل کرنے کے لئے بھیجا ہے۔اس پر مجسٹریٹ امرتسر نے میری گرفتاری کے لئے یکم اگست کو وارنٹ جاری کیا ، جس کی خبر سن کر ہمارے مخالفین، امرتسر و بٹالہ میں ریل کے پلیٹ فارموں اور سڑکوں پر آ آ کر کھڑے ہوتے تھے تا کہ میری ذلت دیکھیں لیکن خدا کی قدرت ایسی ہوئی کہ اول تو وہ وارنٹ خدا جانے کہاں گم ہو گیا۔دوم مجسٹریٹ ضلع امرتسر کو بعد میں خبر گی کہ اس نے غیر ضلع میں وارنٹ جاری کرنے میں بڑی غلطی کھائی ہے۔پس اس نے ۶ راگست کو جلدی سے صاحب ضلع گورداسپور کو تار دیا کہ وارنٹ فور روک دو۔جس پر سب حیران ہوئے کہ وارنٹ کیسا۔لیکن مثل مقدمہ آنے پر صاحب ضلع گورداسپور نے ایک معمولی سمن کے ذریعہ مجھے بلایا اور عزت کے ساتھ اپنے پاس کرسی دی۔یہ صاحب ضلع جس کا نام کپتان ایم ڈبلیوڈ گلس تھا۔یہ سبب زیرک اور دانشمند اور منصف مزاج ہونے کے فورا سمجھ گیا کہ مقدمہ بے اصل اور جھوٹا ہے۔اس لئے میں نے ایک دوسرے مقام میں اس کو پیلاطوس سے نسبت دی ہے۔بلکہ مردانگی اور انصاف میں اس سے بڑھ کر لیکن خدا کا اور فضل یہ ہوا کہ خود عبدالمجید نے عدالت میں اقرار کر لیا کہ عیسائیوں نے مجھے سکھلا کر یہ اظہار دلایا تھا ورنہ یہ بیان سراسر جھوٹ ہے کہ مجھے قتل کرنے کے لئے ترغیب دی گئی تھی۔پس صاحب ضلع نے اس آخری بیان کو صحیح سمجھا اور بڑے زور وشور کا چٹھا لکھ کر مجھے بری کر دیا اور تقسیم کے ساتھ عدالت میں مجھے مبارکباد دی - فــالـحـمـد الله علیٰ ذلک ،، (۴۴) یر الف نزول المسیح پیشگوئی نمبر ۶۰ روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۴ ۵۷ تا ۷ ۵۷ و حاشیہ اس نشان کے رویت کے زندہ گواہوں میں حضرت اقدس نے منشی ظفر احمد صاحب - میاں محمد خاں صاحب ہنسی محمد اروڑ ا صاحب و دیگر جماعت کپورتھلہ کے اسماء درج فرمائے ہیں یه فیصله ۲۲ را گست ۱۸۹۷ء کو سنایا گیا۔اس سے ایک روز پہلے کی پیشی کے بارے منشی حبیب الرحمن صاحب نے بواسطہ شیخ عبدالرحمن صاحب بیان کیا کہ میں رات کو گورداسپور پہنچا تھا۔(باقی اگلے صفحہ پر )