اصحاب احمد (جلد 10) — Page 19
19 اس دوران میں منشی صاحب سے بھی احمدیت کے متعلق بات چیت ہوئی وہ یہ معلوم کر کے کہ میں احمدی ہوں سخت ناراض ہوئے ان کا کوئی کشمیری پیر تھا اس کو جب علم ہوا کہ میں احمدی ہوں تو اس نے ان کو کہہ دیا کہ یہ تو کافر ہے حضرت عیسی کو وفات شدہ مانتا ہے اس پر انہوں نے مجھے کہا کہ ہمارا تعلق آپ سے تب رہ سکتا ہے کہ احمدیت سے توبہ کریں۔یہ بات مجھے سخت ناگوار گذری میں نے کہا کہ یہ تو آپ کی ایک لڑکی ہے اگر ایسا سورشتہ بھی ہو تو میں احمدیت پر قربان کر دوں گا۔چنانچہ اس سے ناراض ہو کر میں راولپنڈی سے سیدھا قادیان چلا گیا۔اور وہاں حضرت صاحب کے ہاتھ پر مکرر بیعت کر کے واپس پشاور آ گیا۔انٹرنس میں ناکامی اور مدرسہ تعلیم الاسلام میں تقرری :- انٹرنس کا نتیجہ نکلا تو میں جنرل نالج میں زیر تجویز نکلا۔فیل ہونے کا باعث یہ امر ہوا کہ بعض وجوہات سے میں تاریخ جغرافیہ کی طرف پوری توجہ نہ دے سکا تھا۔اور اس مضمون پر میری طبیعت بھی نہ لگتی تھی چونکہ میرا اوظیفہ دو سال کے لئے تھا اور میں نے امتحان ایک سال کے بعد دے دیا تھا اس لئے ابھی وظیفہ باقی تھا۔ہیڈ ماسٹر صاحب نے مجھے کہا کہ اگلے سال بھی پڑھو۔آئندہ سال اچھے نمبروں پر پاس ہو جاؤ گے۔مگر میں دل شکستہ ہو گیا تھا۔آئندہ تعلیم جاری رکھنے کا ارادہ ترک کر دیا۔اور پھر قادیان چلا گیا۔ان دنوں قادیان میں مدرسہ کی صرف پانچ جماعتیں تھیں۔مولا نا محمد علی صاحب بھی تازہ احمدی ہوئے تھے اور قادیان آئے ہوئے تھے ان کو جب علم ہوا کہ میں نے اسی سال انٹرنس کا امتحان دیا ہے تو مجھ سے رول نمبر دریافت کیا جب میں نے بتایا تو فرمانے لگے کیا تمہارا وظیفہ لگا ہے۔میں نے کہا کہ میں تو پاس بھی نہیں ہوا تعجب سے کہنے لگے کہ تم نے ریاضی کے پرچے میں پورے نمبر لئے ہیں۔اتفاق سے انہوں نے اس سال انٹرنس کے ریاضی کے پرچے دیکھے تھے چنانچہ ان کی سفارش پر میں قادیان کے سکول میں مدرس لگایا گیا۔(الف) استفسار پر ماسٹر صاحب فرماتے ہیں کہ مجھے منشی احمد جان صاحب کے مزید حالات بعد کے زمانہ کے معلوم نہیں جو لڑ کی میرے ساتھ منسوب ہوئی اس کی شادی پشاور کی مگر شادی کے معا بعد اسے دق ہوگئی اور غالباً دو سال کے اندر فوت ہوگئی۔(ب) یہ پہلی بار زیارت حضرت اقدس و قادیان تھی۔آپ نے مڈل کا امتحان ۱۸۹۵ ء ہی میں دیا تھا۔گویا ۱۸۹۶ء میں امتحان دے کر آپ قادیان گئے تھے۔ماسٹر صاحب فرماتے ہیں ان دنوں امتحان سال کی آخری ششماہی یعنی جولائی اگست ستمبر میں ہوتا تھا۔اس وقت چھٹی جماعت کھول دی گئی اور مجھے ہیڈ ماسٹر مقرر کیا گیا۔