اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 358 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 358

358 جمعہ کی نماز کے لئے آپ ایک بجے سے کچھ منٹ پہلے تشریف لے گئے منشی حبیب الرحمن صاحب نمبردار حاجی پور بھی آپ کے ساتھ تھے۔۔۔۔ٹھیک ایک بجے حضرت مولانا عبد الکریم صاحب سلمہ ربہ خطبہ کے لئے کھڑے ہوئے۔اس عنوان کے آخر پر حضرت عرفانی صاحب کے ذیل کے بیانات درج کرنے مناسب ہیں جن سے اصحاب کپورتھلہ کے مقام رفیع کا علم ہوتا ہے۔اور یہ بھی کہ شوق ملاقات کا کیسا جذبہ ان کے پاک دلوں میں موجزن تھا۔آپ رقم فرماتے ہیں کہ کپورتھلہ کی جماعت کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ایک ایسا تعلق محبت و اخلاص کا تھا کہ حضرت اقدس نے انہیں تحریری بشارت دی کہ تم جنت میں میرے ساتھ ہو گے۔کپورتھلہ کے احباب ہمیشہ موقع کی تلاش میں رہتے۔جونہی فرصت ہوئی خواہ وہ ایک ہی دن کی ہو تو وہ دیوانہ وار قادیان کو بھاگتے تھے۔اور جس قدروقت بھی میسر آتا حضرت کی صحبت میں رہتے اور اسے اپنی زندگی کا بہترین حصہ یقین کرتے۔یہ لوگ حضرت کی محبت میں اس قدر محو تھے کہ وہ آپ کے چہرہ کو تکنا اور (اپنے ) اخلاص کو بڑھانا ہی اپنی زندگی کا مقصد سمجھتے رہے۔اہم واقعات کے متعلق ان کی روایات نہایت ثقہ اور صحیح ہیں۔“ ( حضرت منشی اروڑے خاں صاحب) فرمایا کرتے کہ جب ہم کپورتھلہ سے آتے تو آتے ہی حضرت اقدس کو اطلاع کرتے تھے۔،، (۲۷) مخلصین کپورتھلہ“ کے متعلق حضرت عرفانی صاحب یہ بھی رقم فرماتے ہیں کہ عشق و محبت کے یہ پروانے ذرا فرصت پاتے تو قادیان پہنچ جاتے۔جہاں حضرت جاتے یہ ساتھ جاتے“ نیز حضرت منشی ظفر احمد صاحب کی وفات پر اپنے مضمون میں تحریر فرماتے ہیں کہ یہ لوگ طبیعت میں جب بے کلی محسوس کرتے ، دیوانہ وار بھاگے چلے آتے تھے۔حضرت کود یکھ لیا۔کچھ باتیں سن لیں زندگی کی نئی روح لے کر واپس چلے گئے، (۲۸) احباب کپور تھلہ جب بھی اپنے دل میں ایک جوش پاتے فورا قادیان چلے آتے ، انہوں نے کبھی یہ سوچا ہی نہیں الحکم ۱۰ اکتوبر ۱۹۰۲ء ( صفحه ۱۵ کالم ۲۶۱) خلافت ثانیہ میں ایک موقع پر ایک ہفتہ میں آنے والے ڈیڑھ درجن مہمانوں میں ” حبیب الرحمن صاحب رئیس حاجی پور کا نام نامی مرقوم ہے ( الفضل ۱۲۰ اگست ۱۹۲۵ء زمیر مدینہ امسیح ) اصل سہو کتابت سے یونہی مرقوم ہے۔(مؤلف اصحاب احمد ) مکتوبات احمد یہ جلد پنجم نمبر پنجم صفحہ ۵۳، مراد یہ ہوگا کہ اکثر ایسا ہوتا ہوگا۔