اصحاب احمد (جلد 10) — Page 15
15 رگ پھٹ جانے سے جریان خون سے واقع ہوئی۔آپ کی وفات ہمارے لئے ایک آفت ناگہانی تھی گھر میں کوئی بڑا آدمی موجود نہ تھا۔والد صاحب نے روپیہ تو بہت کمایا تھا مگر اندوختہ کچھ نہ تھا والدہ صاحبہ بہت سخت طبیعت تھیں۔والد صاحب کی وفات پر ہم تین بھائی اور ایک بہن یتیم رہ گئے۔والد صاحب کے ایک دوست میاں محمد کتب فروش تھے ان کے پاس ہمارا پانچ سو روپیہ تھا جس سے اس نے ایک جندر ( پن چکی ) ہمیں رہن لے دی وہاں سے پندرہ روپے ماہوار ہمیں ملتے اور پانچ روپے ماہوار کرایہ ہمارے چھوٹے مکان کا آتا ہیں روپے ماہوار کی ہماری کل آمد نی تھی۔والدہ صاحبہ اس آمد پر اور کچھ گھر کے اثاثہ پر گزارہ کرتیں۔والد صاحب کی وفات کے وقت میں ساتویں جماعت میں تھا کہ میری تعلیم چھٹ گئی۔والد صاحب کے تعلقات اہل حدیث سے زیادہ تھے اس لئے ان کی وفات کے وقت میرے خیالات بھی فرقہ اہل حدیث کی طرف جن کو لوگ وہابی کہتے ہیں زیادہ مائل تھے۔میری منگنی :۔والد صاحب کی وفات سے تھوڑا عرصہ قبل میری منگنی منشی احمد جان صاحب کی لڑکی سے ہوئی جو قوم کے کشمیری تھے۔اور ان دنوں انگریزوں کو پشتو اور فارسی پڑھایا کرتے تھے۔والد صاحب کی وفات کے بعد والدہ صاحبہ نے منشی احمد جان صاحب کے گھر جا کر ان سے جھگڑا کیا۔اور جوز یور اور کپڑے میری منگنی کے وقت ان کو دیئے تھے وہ واپس لے لئے۔اور ہماری منگنی فسخ ہوگئی۔مگر اب تک ان لوگوں نے مجھے لڑکی دینے کا ارادہ ترک نہ کیا تھا۔گو والدہ صاحبہ کے سلوک سے ان کو بہت صدمہ ہوا۔تصوّف کی طرف رجحان ہمارے مکان کے قریب ایک شخص میاں اسماعیل صوفی منش چلغوزے بھونے کا کام کرتے تھے ان کے پاس میری آمد ورفت ہوگئی۔بہت نیک شخص تھا۔ان کے پاس آمد ورفت کی وجہ سے میرے خیالات بھی صوفیاء کی طرف مائل ہو گئے۔اور نقشبندی سلسلہ میں موضع چورہ شریف ضلع اٹک میں میاں نور محمد صاحب عرف ملا صاحب مشہور تھے ان کی بیعت میں داخل ہو گیا۔تقریب دو سال تک میرا یہ دستور رہا کہ تمام دن نماز اور اذکار میں مشغول رہتا۔رات کو بھی وظائف پڑھتا۔میرے والد صاحب کے بعض دوستوں کا خیال ہوا کہ میں اس طرح وظائف اور اذکار میں مشغول رہ کر پاگل نہ ہو جاؤں۔۔چنانچہ والد صاحب کے دوست ایک صاحب شمس الدین نام تھے۔انہوں نے جہانگیرے کے گذر کا ٹھیکہ لیا تو مجھے بطور محرر اپنے ساتھ لے گئے جہاں میں نے ایک سال کام کیا۔اگلے سال انہوں نے چارسدہ کے گذر کا ٹھیکہ لیا تو وہاں بھی مجھے ساتھ لے گئے۔پھر