اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 340 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 340

340 حضرت اقدس سے منشی صاحب کی اولیں ملاقات ( جالندھر میں ) ہوشیار پور میں چلہ کرنے کے بعد حضرت اقدس نے مشہور آریہ سماجی ماسٹر مرلیدھر سے ۱۴٫۱۱ / مارچ ۱۸۸۶ء کو ایک معرکۃ الآراء مباحثہ کیا جو بعد تکمیل حضور کی طرف سے سرمہ چشم آریہ کے نام سے شائع کیا گیا۔حضور واپسی پر جالندھر کچھ دیر ٹھہرے۔اس موقع پر حضرت منشی حبیب الرحمن صاحب کو بھی حضور کی زیارت کا موقع ملا۔یہ منشی صاحب کی اولیں زیارت معلوم ہوتی ہے۔آپ تحریر کرتے ہیں:۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب ہوشیار پور میں چند روز قیام فرمایا اور ماسٹر ( مرلیدھر ) سے بحث ہو کر سرمہ چشم آریہ کتاب طبع ہوئی ، ہوشیار پور سے واپسی پر جالندھر سے ریل میں سوار ہونا تھا۔اس لئے چند گھنٹے جالندھر میں قیام فرمانا تھا، ہم کو بھی کپورتھلہ میں اس کی اطلاع پہنچ گئی۔اس لئے خاکسار اور منشی ظفر احمد صاحب اور ایک اور صاحب جالندھر آپ کی زیارت کے واسطے گئے۔وہاں ہمارے پھوپھا صاحب مرحوم ملازم تھے۔جالندھر پہنچ کر معلوم ہوا کہ حضرت صاحب ہمارے پھوپھا صاحب کے مکان پر ہی چند گھنٹے قیام فرما دیں گے۔قریب دو پہر کے حضور تشریف لائے۔آپ کو دردسر کا دورہ تھا۔کثرت سے آدمی جمع تھے۔تمام مکان آدمیوں سے بھرا ہوا تھا۔جناب پھوپھا صاحب نے کھانے کے واسطے عرض کیا تو فرمایا کہ مجھے دردسر کی سخت تکلیف ہے اگر کھانا کھاؤں گا تو نکل جائے گا۔اس پر بھی ایک طشتری میں حلوائی بیضہ مرغ حضور کے سامنے پیش کیا، حضور نے ہاتھ دھو کر چمچہ سے چند لقمے تناول فرمائے۔پھوپھا صاحب منشی عبداللہ صاحب نے سوال کیا کہ آپ کا سید احمد خان کی نسبت کیا خیال ہے۔حضور نے فرمایا کہ میں نے ان کی تمام تصانیف تو دیکھی نہیں اس لئے میں ان کی دینی حالت کے متعلق تو کچھ نہیں کہہ سکتا۔البتہ اس قدر جانتا ہوں کہ دنیاوی طریق پر سید صاحب مسلمانوں کی بہتری اور بہبودی کے واسطے بہت کوشش کرتے ہیں۔اس لئے مسلمانوں کو ان کا مشکور ہونا چاہیئے۔اس کے علاوہ اور بھی سوالات ہوئے اور (حضور نے ان کے ) جواب دے مگر مجھے یاد نہیں۔کسی قدر آرام فرما کر ظہر کی نماز کے لئے مسجد میں جو قریب ہی تھی ، تشریف لے گئے۔اگر چہ در دسر کے عذر کی وجہ سے حضور نے فرمایا کہ کوئی دوسرا نماز پڑھائے لیکن سب کے اصرار پر حضور نے ہی نماز پڑھائی۔دورکعت آپ نے پڑھائیں۔باقی دو رکعت ہم نے خود پڑھیں۔بہت کثرت سے آدمی جمع ہو گئے تھے“۔( قلمی کا پی صفحه ۲۵ تا ۲۶) * منشی حبیب الرحمن صاحب نے بواسطہ شیخ عبدالرحمن صاحب بیان کیا کہ یہ میرے ( باقی حاشیہ اگلے صفحہ پر )