اصحاب احمد (جلد 10) — Page 306
306 حضرت منشی حبیب الرحمن صاحب کی وفات پر حضرت خلیفتہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی طرف سے اعلان ہوا کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پرانے مخلصین اور سابقون میں سے تھے۔بیرونی جماعتیں ان کا جنازہ پڑھیں۔تو یہ امر سابقون کے اعزاز کے لحاظ سے مناسب اور موجب رضائے الہی ہوگا۔(۵) آپ کے خاندانی حالات حضرت منشی حبیب الرحمن صاحب قوم کا ئستھ ، گوت بھٹنا گر کی ولادت قصبہ سراوہ ضلع میرٹھ (یو۔پی ) میں شیخ عبدالہ ائم متوطن قصبہ بوڑھا نہ ضلع مظفرنگر (یو پی) کی نسل میں چودہویں پشت میں ہوئی تھی۔شیخ صاحب پہلے لالہ دُنی چند تھے۔اور بعد وفات عبد الدائم شہید کے نام سے مشہور ہوئے۔شہنشاہ اورنگ زیب کے زمانہ میں ان کے قبول اسلام کا واقعہ یوں ہے کہ ہنود اپنے شیر خوار بچوں کو دفن کرتے ہیں ، اسی طریق پر آپ کی ایک ایسی بچی دفن کر دی گئی۔لیکن یہ بات آپ کو ناگوار گزری کہ ایک مسلمان کی بچی بلاغسل و تکلفین دفن ہو۔کیونکہ آپ مخفی طور پر اسلام قبول کر چکے تھے۔اور خفیہ طور پر قرآن مجید اور نماز پڑھتے تھے جس کا علم صرف آپ کے مسلم احباب کو تھا۔سو آپ نے ان کی مدد سے نعش کو نکال کر بعد غسل و تکفین و جنازہ دوبارہ دفن کیا۔صبح مالی نے آپ کے والد صاحب کو (غالبا قبر کی طرز وسمت سے اندازہ کر کے۔مؤلّف ) خبر دی کہ باغ میں ایک قبر بنی ہوئی ہے۔انہوں نے اپنے بیٹے دُنی چند سے کہا کہ اگر تمہار ادل اسلام کی طرف مائل ہے تو اس کا اظہار کر دو۔چنانچہ انہوں نے اپنے تینوں بھائیوں اور اپنے کنبوں سمیت قبول اسلام کا اعلان کر دیا۔شیخ صاحب موصوف صوبہ مقرر ہوئے۔یہ منصب آج کل گورنر کے نام سے موسوم ہے۔آپ نے بہت سی مساجد تعمیر کروائیں جن میں سے اکثر آج تک موجود ہیں۔مثلاً بُوڑھانہ کی بڑی مسجد اور سہارنپور کی شاہی مسجد اور ان کے خاندان میں جو مختلف شہروں اور قصبوں اور دیہات میں پھیلا ہوا ہے اب تک دین اسلام کا چرچا چلا آتا ہے۔حکومت نے ان کی قوم کا نام شیخ قانونگو تجویز کیا تھا اور قانونگوئی جو مالیات کا اعلیٰ عہدہ ہوتا تھا اور اس وقت فنانشنل کمشنر کہلاتا ہے، اس خاندان کے لئے مخصوص کر دیا تھا اور انگریزی حکومت نے بھی اس خاندان کا یہ حق تسلیم کر لیا تھا۔چنانچہ منشی صاحب کے تایا صاحب اور والد صاحب بھی ان عہدوں پر فائز رہے ہیں۔لیکن بعد میں ریاست کپورتھلہ سے دونوں کا تعلق ہو جانے کی وجہ سے یہ مخصوصیت جاتی رہی۔منشی محمد ابو القاسم صاحب والد منشی حبیب الرحمن صاحب) انسپکٹر یعنی مشیر مال ( کلکٹر) کے عہدہ پر ریاست کی جا گیر اودھ پر متعین رہے۔