اصحاب احمد (جلد 10) — Page 305
305 تعارف منشی حبیب الرحمن صاحب حضرت منشی حبیب الرحمن صاحب اُن چنیدہ احباب میں سے ایک تھے جن کے اسماء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی کتاب ازالہ اوہام میں بطور مخلص دوست درج کرتے ہوئے یہ دعا فرمائی ہے کہ۔”اے قادر خدا! میرے اس طرن کو جو میں اپنے ان تمام دوستوں کی نسبت رکھتا ہوں۔سچا کر کے مجھے دکھا اور ان کے دلوں میں تقوی کی سبز شاخیں جو اعمال صالحہ کے میووں سے لدی ہوئی ہیں، پیدا کر۔اُن کی کمزوری کو دور فرما۔اور اُن کا سب کسل دور کر دے اور ان کے دلوں میں اپنی عظمت قائم کر اور ان میں اور ان کے نفسوں میں دوری ڈال اور ایسا کر کہ وہ تجھ میں ہو کر بولیں اور تجھ میں ہو کر سنیں اور تجھ میں ہو کر دیکھیں اور تجھ میں ہو کر ہر حرکت ( و ) سکون کریں۔ان سب کو ایک ایسا دل بخش جو تیری محبت کی طرف جھک جائے۔اور اُن کو ایک ایسی معرفت عطا کر جو تیری طرف کھینچ لیوے۔اے بارِ خدا! یہ جماعت تیری جماعت ہے۔اس کو برکت بخش اور سچائی کی رُوح ان میں ڈال کہ سب قدرت تیری ہی ہے۔آمین۔احباب کپورتھلہ کے متعلق ایک مکتوب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں کہ :- میں اس تمام مخلص جماعت کو ایک وفادار اور صادق گروہ یقین رکھتا ہوں۔اور مجھے کپورتھلہ کے دوستوں سے دلی محبت ہے۔میں اُمید کرتا ہوں کہ آپ لوگ اس دنیا اور آخرت میں خدا تعالیٰ کے فضل وکرم سے میرے ساتھ ہوں گے۔(۲) (1) حضرت ڈاکٹر محمد اسمعیل صاحب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ :- خاکسار نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وہ قلمی تحریر دیکھی ہے جس میں حضور نے اس زمانہ کی جماعت کپورتھلہ کی بابت لکھا تھا کہ وہ انشاء اللہ جنت میں میرے ساتھ ہوں گے۔(۳) حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی کے انتقال پر حضرت مصلح موعودؓ نے خطبہ جمعہ میں فرمایا کہ ابتدائی زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمات کرنے والے صحابہ ایک تعویذ ، ذریعہ حفاظت اور حصن حصین ہیں۔جن کی وجہ سے دنیا بہت سی بلاؤں سے محفوظ رہتی ہے۔یہ لوگ انبیاء اور ان کے خلفاء کے بعد دوسرے درجہ پر امن وسکون کا باعث ہوتے ہیں۔(۴)