اصحاب احمد (جلد 10) — Page 268
268 اور پانی پی کر بڑے زور سے سانس لیتے اور زور سے الحمد للہ کہتے۔ان دنوں قادیان میں برف نہیں آتی تھی۔مولانا صاحب کا انتقال کا ر بنکل پھوڑے سے ہوا تھا۔کار بنکل کا تین چار دفعہ اپریشن ہوا تھا ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب مرحوم نے اپریشن کیا تھا۔ہر دوسرے تیسرے روز مرزا صاحب خبر گیری کیلئے آتے تھے۔ایک دفعہ مرزا صاحب کو آنے میں ذرا زیادہ دن لگ گئے جب آئے تو حضرت مولانا صاحب نے فرمایا۔جب مر گئے تو آئے ہمارے مزار پر پتھر پڑیں صنم ترے ایسے پیار پر آخر مولانا کا اسی مرض سے انتقال ہو گیا۔جس دن مولانا صاحب کا انتقال ہوا۔اور تجہیز وتکفین ہونے لگی تو قادیان کے شمالی جانب سے ایک بدلی اُٹھی۔جس وقت جنازہ تیار ہو گیا تو بدلی عین قادیان کے اوپر آگئی اور بوندیں پڑنے لگیں۔جب تک حضرت مولانا کو دفنایا نہیں گیا۔بوندیں پڑتی رہیں۔جنازہ اس میدان میں لایا گیا جو تعلیم الاسلام ہائی سکول کے بورڈنگ اور ریویو آف ریلینجز کے دفاتر کے سامنے تھا۔حضرت مسیح موعود نے جنازہ پڑھایا میں بالکل حضرت صاحب کے پیچھے پہلی صف میں کھڑا تھا۔جب حضرت صاحب جنازہ پڑھا چکے تو ہماری طرف منہ کر کے کھڑے ہو گئے اور فرمایا کہ میں نے آپ سب کا جنازہ پڑھ دیا ہے۔“ ۶۶ - ( از مولوی عبدالواحد صاحب )۔ایک دفعہ حضور کے رخسار مبارک پر ایک مئہ نکل آیا جس سے حضور کو تکلیف محسوس ہوتی رہی۔حضور کو الہاما بسم اللہ الکافی (113 ) (الخ) دعا سکھلائی گئی۔جسے پڑھ کر حضور نے دم کیا۔شام کو حضور تشریف لائے تو درد نہیں تھا۔اور منہ بھی نہایت خفیف سا معلوم ہوتا تھا۔ریویو آف ریلیجنز میں اس تعلق میں مرقوم ہے:۔یہ ایک عجیب بات قابل ذکر ہے کہ حضرت مولوی صاحب مرحوم کی وفات پر نہ صرف جماعت ہی روتی تھی۔بلکہ آسمان بھی رویا۔آپ کی وفات سے پہلے آسمان بالکل صاف تھا۔اور کئی دنوں سے اسی طرح صاف چلا آتا تھا۔مگر جبھی کہ آپ نے آخری دم لیا۔آسمان پر بادل نمودار ہو گیا۔اور آخر جب آپ کا جنازہ میدان میں رکھا گیا۔اور حضرت مسیح موعود نماز جنازہ کے لئے تشریف لائے تو ایسے قطرے آسمان سے برسنے شروع ہوئے جو بالکل رونے سے مشابہ تھے۔“ (114) یه ۲۷ جنوری ۱۹۰۵ء کی بات ہے اس کا ذکر تذکرہ میں آتا ہے کہ رخسار پر اماس کے وقت یہ دعا سکھلائی گئی تھی۔