اصحاب احمد (جلد 10) — Page 262
262 ۵۳۔( از مولوی صاحب موصوف )۔حضور کی مجلس میں حدیثوں کے متعلق ذکر ہور ہا تھا۔سید محمد احسن صاحب اور دوسرے مولانا صاحبان میں سے کوئی فرماتے کہ یہ حدیث ضعیف ہے کوئی فرماتے کہ اس حدیث کا راوی ثقہ نہیں۔حضور نے فرمایا کہ ہم تو اس بحث میں نہیں پڑتے۔حدیث والے سے پوچھ لیتے ہیں کہ کیا یہ آپ کی حدیث ہے یا نہیں۔فرمایا۔حدیثوں پر غور نہیں کیا گیا۔یہی سلام والی حدیث ہے اگر مولویوں کے خیال کے مطابق مسیح علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں تو کبھی رسول اللہ ﷺ نے جبرائیل کو نہیں فرمایا کہ ہمارا سلام عیسی کو کہہ دینا۔حالانکہ بائیس تئیس برس تک جبریل روزانہ وحی لے کر آپ کے پاس آتے رہے بعض دفعہ دن میں دو مرتبہ۔پھر جب حضور علیہ السلام کا وصال ہو گیا۔تو خود بھی حضور مسیح علیہ السلام کے پاس چلے گئے تو کیا وہ نہ کہیں گے کہ یہ سلام کیسا میں تو خود ان کے پاس سے آرہا ہوں تو وہی مثال ہوئی ( گھروں میں آواں نے سنیے کسی دیود ) ہے ۵۴۔مولوی عبدالواحد صاحب بیان فرماتے ہیں کہ :۔مقد مه کرم دین حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جہلم جانے کی تاریخ مقرر ہو چکی تھی۔چنانچہ حافظ عبدالعزیز صاحب مرحوم، مستری نظام الدین صاحب مرحوم مالک سپورٹس ورکس سیالکوٹ اور خاکسار تینوں سیالکوٹ سے روانہ ہوئے۔تا کہ وزیر آباد پہنچ کر اس ٹرین میں سوار ہوسکیں جس میں حضور تشریف لے جار ہے تھے۔وزیر آباد اسٹیشن پر جب ہم گاڑی سے اترے تو وہاں عجیب نظارہ تھا۔حضور والی ٹرین ہمارے سامنے دوسرے پلیٹ فارم پر کھڑی تھی لوگوں کا ہجوم اس قدر تھا کہ ٹرین کے ڈبے کھچا کھچ بھرے ہوئے تھے یہ دیکھ کر ہمیں مایوسی ہوئی کہ شاید اس میں ہم لوگ سوار نہ ہو سکیں۔اس کثرت سے لوگ حضور کی زیارت کے لئے چلے آرہے تھے کہ ایک نہ ختم ہونے والا تانتا بندھا ہوا تھا۔پلیٹ فارم ٹکٹ۔پلیٹ فارم ٹکٹ کا شور مچ رہا تھا۔اتنے میں اسٹیشن ماسٹر تشریف لائے اور بلنگ کلرک پر ناراض ہوتے ہوئے بولے ٹکٹ بند کر دو۔اور گیٹ کھول دولوگوں کو جانے دو ہجوم میں مرزا صاحب کی زیارت کا جوش ہے کھڑ کی بند کر و خطرہ ہے لوگ کھڑ کی نہ توڑ دیں۔گیٹ کے قریب ایک ادھیٹر عمر کی ہندو عورت کو پنجابی میں یہ کہتے سنا کہ بڑی دنیا درشن کے واسطے آئی ہے پر ماتما کا اوتار آیا ہے۔قریب نہیں جاسکتی دور سے دیکھ لوں گی۔لوگوں میں حضور کی زیارت کا اس قدر جوش تھا کہ ہجوم نے ٹرین روک لی اور اسٹیشن ماسٹر نے بھی ٹرین لیٹ کر دی۔پھر گجرات اور لالہ موسیٰ کے اسٹیشنوں پر بھی لوگ آئے۔اس پنجابی محاورہ کا ترجمہ یہ ہے کہ گھر سے تو میں آرہا ہوں اور پیغام ( گھر والوں کی طرف سے ) تم دیتے ہو۔حضور ۱۵ جنوری ۱۹۰۳ء کو جہلم کے سفر کے لئے قادیان سے روانہ ہوئے اور ۱۹ جنوری کو مراجعت فرما ہوئے۔