اصحاب احمد (جلد 10) — Page 257
257 ہو گیا ہے۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب کا یہ منشار نہیں تھا کہ نعوذ باللہ حضرت مریم صدیقہ نہیں تھیں۔بلکہ غرض یہ ہے کہ حضرت عیسی کی والدہ کے ذکر سے خدا تعالیٰ کی اصل غرض یہ ہے کہ حضرت عیسی کو انسان ثابت کرے۔‘‘ (91) ۳۸ - ( از مولوی صاحب موصوف ) : " حکیم محمد حسین صاحب قریشی نے اپنے دادا بابا چٹو کو قادیان میں لاکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے درخواست کی کہ حضور ان کو سمجھا ئیں۔فرمایا۔اچھا سمجھا ئیں گے۔اس وقت حضور علیہ السلام سیر کے لیباہر تشریف لے جارہے تھے۔راستہ میں فرمایا کہ پیر فرتوت ہے۔اس کا سمجھنا مشکل ہے۔قریشی صاحب کے دادا سیر میں نہیں گئے تھے بلکہ قریشی صاحب بھی ان کی رہائش کے انتظام میں مشغول تھے۔اور ساتھ نہیں گئے تھے۔“ مولف سیرۃ المہدی حضرت مرزا بشیر احمد صاحب دام عزہ تحریر فرماتے ہیں کہ :۔قریشی صاحب کے دادا چٹو اہل قرآن تھے جنہیں لوگ چکڑالوی کہتے ہیں اور جہاں تک مجھے علم ہے اسی عقیدہ پر ان کی وفات ہوئی تھی۔“ (92) ۳۹ ( از مولوی صاحب موصوف ) : " حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں یہ دیکھنے میں آیا کہ جب تکبیر ہوتی تھی۔تو جو احباب سنتیں پڑھ رہے ہوتے تھے وہ انہیں پوری کر کے جماعت میں شامل ہوتے تھے۔اسی طرح حضرت خلیفہ المسیح اول کے زمانہ میں بھی مندرجہ بالا حدیث کا مطلب ہم یہ سمجھتے تھے کہ جب امام تکبیر کہے تو اس کے بعد اگر سنتیں پڑھنے والا ایسی حالت میں ہو کہ اگر وہ اپنی سنت کی نماز ختم کرے رکوع میں امام کے ساتھ مل سکتا ہو تو وہ پوری کر لے۔‘(93) ۴۰۔(از حضرت مولوی صاحب ) : " حضرت مسیح موعود کو ایک دفعہ میں نے نماز جمعہ سے پہلے دورکعت سنت پڑھتے ہوئے دیکھا۔آپ کا رکوع قیام قومہ جلسہ درمیانہ تھا۔ہر ایک رکن میں اطمینان اور تسلی ہوتی تھی۔پھر میں نے ہاتھ باندھنے کی کیفیت دیکھی کہ سینے پر ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔۔اور دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر تھا۔اور دائیں ہاتھ کے انگوٹھے اور چھنگلی سے باز و پکڑا ہوا تھا۔اور تینوں درمیانی انگلیاں باز و پرتھیں۔اور کہنیوں کے جوڑ سے ورلی طرف ملی ہوئی تھیں۔“ (94) ۴۱ - ( از مولوی صاحب موصوف )۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود نماز میں کھڑے ہوئے تھے۔کہ آپ نے ناک کو دائیں ہاتھ سے کھجلایا۔ایسا ہی ایک اور دفعہ میں نے دیکھا کہ آپ نے قیام میں دائیں پاؤں سے