اصحاب احمد (جلد 10) — Page 225
225 تک بھی نوبت پہنچی۔لیکن روحانی مسرتوں کے باعث ان تکالیف کا احساس نہ ہوا۔کیونکہ آپ زمینداری نہیں کرتے تھے اس لئے آمد کی کوئی صورت نہ تھی۔پھر چند لڑ کے آپ سے فارسی پڑھنے لگے۔اس طرح قدرے معاش کا سامان ہو گیا۔اہلیہ اولی کے متعلق ایک نشان :- آپ کی شادی آپ کے ماموں کی لڑکی کے ساتھ ہوئی تھی۔جب آپ ابھی نھیال میں مقیم تھے تو آپ جمعہ گوجرانولہ میں ادا کرتے تھے۔ایک جمعہ پر امام الصلوۃ حکیم محمد دین صاحب نے کہا کہ آپ طبابت کرتے ہیں۔سنکھیا کوئی کھالے تو اس کا علاج یہ ہے۔آپ یا درکھیں۔آپ گھر پہنچے تو معلوم ہوا کہ آپ کی بیوی نے غلطی سے سنکھیا کھا لیا ہے اور ان کی حالت غیر ہو چکی تھی۔اور مخالفین خوش ہو کر کہتے تھے کہ مرزائی کی خانہ بربادی مرزائیت کے باعث ہونے لگی ہے۔مولانا نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے علاج بتا دیا ہوا ہے۔یہ بچ جائے گی۔چنانچہ اس علاج سے معجزانہ طور پر شفا ہوگئی۔مباہلہ وغیرہ اور نکاح ثانی :۔آپ کے ساتھ موضع حمید پور کے ایک مولوی نے مباحثہ اور پھر مباہلہ کیا۔اور ایک سال کے اندر ہلاک ہوا۔اسی طرح دیگر معاندین کو بھی اللہ تعالیٰ نے ذلیل کیا۔اور مخالفت کم ہوگئی۔اور ایک دو گھرانے احمدی ہو گئے۔اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے شَمَاتَتَ أَعْدَاء سے بچا کر فوری ہلاکت سے آپ کی اہلیہ صاحبہ کو فوری بچالیا۔بعد میں کچھ اس زہر کے اثر سے اور کچھ جسمانی تکالیف کی وجہ سے صحت خراب ہوگئی۔حضرت مسیح موعود کے وصال کی خبر سے ایسا گہرا اثر پڑا کہ جانبر نہ ہوسکیں۔اور ۲ دسمبر ۱۹۰۸ء کو وفات پاگئیں۔آپ نے جلسہ سالانہ پر حضرت خلیفہ اول سے ان کی وفات کا ذکر کر کے نکاح ثانی کے لئے دعا کی درخواست کی۔حضور نے نہایت شفقت سے فرمایا کہ میں ضرور دعا کروں گا۔مولانا صاحب نے بھی دعا کی کہ حضور کو توجہ سے دعا کرنے کی توفیق ملے۔جلسہ سالانہ کے بعد واپسی کی اجازت کے لئے آپ اور دیگر احباب حاضر ہوئے تو حضور نے سب کے لئے دعا فرمائی اور مولانا صاحب سے کہا کہ میں نے آپ کے نکاح کے متعلق دعا کی ہے۔اور اللہ تعالیٰ نے مجھے بتایا ہے کہ قبول کر لی گئی ہے۔محترم مولانا صاحب نے رویا میں دیکھا کہ کوئی شخص ایک نو جوان لڑکی کا ہاتھ پکڑ کر کہتا ہے کہ آپ کو دی گئی ہے۔آپ کے چا صاحب نے خواب سن کر فرمایا کہ اس شکل وصورت کی لڑکی چک ۹۸ شمالی شرگودھا میں ہے۔آپ وزیر آباد گئے۔اور حضرت حافظ غلام رسول صاحب سے خواب وغیرہ کا ذکر کیا۔دونوں اس گاؤں میں