اصحاب احمد (جلد 10) — Page 226
226 پہنچے تو دیکھا کہ ایک غیر احمدی مولوی سے مباحثہ کے لئے احمدی مولوی کی ضرورت تھی۔اور یہ دونوں تائید غیبی کے رنگ میں پہنچ گئے تھے۔حافظ صاحب کے ذکر کرنے پر احباب جماعت نے اپنے امام الصلوۃ قریشی غلام حسین صاحب کو تحریک کی۔انہوں نے تین شرائط کے ساتھ منظور کر لیا۔اور ہر سہ امور کے متعلق انہوں نے بقا پور جا کر معلومات حاصل کرنی تھیں۔لیکن غیر احمدی مولوی کو حضرت مولانا بقا پوری صاحب نے اس بُری طرح لا جواب کیا کہ اس کے زیر اثر ان شرائط کو نظر انداز کر کے رشتہ کر دینا منظور کر لیا۔اور ان کی صاحبزادی محترمہ حیات بیگم صاحبہ سے آپ کی شادی ہوگئی ،موصوفہ کو بھی خدمت سلسلہ کا موقع ملتا رہا ہے۔٭ بعد میں مولوی صاحب ۱۹۰۹ء سے ۱۹۱۴ء تک اسی علاقہ میں ٹھہرے اور آپ کی تبلیغ سے کئی جماعتیں قائم ہوئیں۔حصول اولاد کے لئے دعا :۔آپ نے ۱۹۰۵ء میں حضرت مسیح موعود کی خدمت میں نرینہ اولاد کے لئے دعا کی درخواست کی تاکہ آپ کے بعد بھی تبلیغ کا سلسلہ جاری رہے۔فرمایا میں دعا کروں گا۔دوسرے دن پھر عرض کیا۔فرمایا میں نے دعا کی ہے۔اور پھر بھی کروں گا۔تیسرے روز پھر عرض کی۔فرمایا میں نے دعا کی ہے پھر بھی کروں گا۔اللہ تعالیٰ آپ کو ضرور اولاد بخشے گا۔آپ تو اس طرح بات کرتے ہیں۔گویا آپ کی عمر اسی برس کی ہوگئی ہے۔سو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے بابرکت اولا دعطا کی۔آپ کے بڑے بیٹے چوہدری محمد اسمعیل صاحب کی شادی حضرت میر محمد اسمعیل صاحب کی خواہر نسبتی ( محترمہ مجیدہ بیگم صاحبہ بنت حضرت میرزا محمد شفیع صاحب) سے ہوئی جو گویا حضرت سیده ام متین صاحبه حرم سیدنا حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ( * خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ ) کی خالہ ہیں۔رپورٹ مشاورت ۱۹۲۳ء میں نظارت تعلیم وتربیت کی رپورٹ میں مرقوم ہے کہ مولانا صاحب کی اہلیہ صا حبہ ان خواتین میں سے ہیں جو مصباح کے لئے مضامین بھجوانے کا جوش رکھتی ہیں اور مصباح کے لئے خریدار مہیا کرنے میں زیادہ مستعد ہیں۔( صفحہ ۷۴ ) آپ نے چندہ درویشاں دیا۔(68)