اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 205 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 205

205 ملک محمود خان صاحب * قوم وتعلیم :۔حضرت ملک محمود خان صاحب رئیس معیار تحصیل وضلع مردان صو به سرحد ولد جناب محمد شکر خاں صاحب قوم یوسف زئی کمال زئی افغان قریباً ۱۸۶۵ء ( مطابق ۱۲۸۲ھ ) میں تولد ہوئے۔آپ نے آغاز تعلیم قرآن مجید مسجد میں ناظرہ پڑھنے سے کیا۔اور مدرسہ میں داخل ہو کر آٹھویں جماعت تک اردو میں تعلیم حاصل کی۔اور اس زمانہ میں اسی قدر تعلیم ضلع پشاور کے مدارس میں میسر تھی۔آپ اپنے گاؤں میں پانصد جریب اراضی زرعی کے مالک تھے اور نمبر دار بھی تھے اپنے گاؤں میں مالک خان کے نام سے یاد کئے جاتے تھے آپ کے دوست اہل دیہہ اور گردونواح کے واقف حال بڑی عزت کرتے تھے۔اور حکومت کے افسر بھی بڑے احترم سے پیش آتے تھے اور قصبہ طور و کے نواب محبت خاں صاحب اور ان کی اولا د بھی آپ کی بہت عزت کرتی تھی۔واقعات قبول احمدیت :۔آپ فرماتے تھے کہ میں نے ۱۹۰۰ ء کے قریب چونتیس یا پینتیس سال کی عمر میں ایک رؤیا دیکھی کہ میں ایک اجنبی مقام میں ہوں جہاں ایک چار دیواری ہے اور اس کے اندر ایک وسیع صحن ہے اس صحن کے ایک اونچے مقام پر ایک شخص بڑا باوقار کھڑا ہے اور اس کے ہاتھ میں ایک کتاب ہے جس میں سے وہ وعظ کر رہا ہے سامعین کثرت سے موجود ہیں۔مگر اکثر مخالف ہیں جب وہ بزرگ تقریر کرتا ہے تو یہ لوگ شور مچاتے ہیں تا کہ کوئی اس کی تقریر نہ سنے۔میں ان لوگوں کی یہ بد تمیزی دیکھ کر کسی کو کہتا ہوں کہ یہ نالائق لوگ کیوں یہ تقریر نہیں سنتے اور شور وغل کرتے ہیں۔اس کے بعد دوسر نظارہ دیکھتا ہوں کہ میں ایک بلند دیوار پر کھڑا ہوں اور سامنے سے ایک ریچھ میری طرف آرہا ہے اور میں نے اس دیوار سے ڈھیلے اٹھا اٹھا کر اس کو مار کر مار دیا۔اور میں اس کے گزند سے ہر طرح محفوظ رہا۔اس موقع پر کسی نے مجھ کو کہا کہ یہ مقام شیطان کے مقابلہ کا ہے اور اس کے ہلاک کرنے کی جگہ ہے اور یہیں شیطان مرتا ہے۔فرمایا۔اس رویا نے میرے دل پر گہرا اثر کیا اور میں اس کی تعبیر کا خواہاں اور جو یا ہوا۔انہی ایام میں یہ حالات حضرت قاضی محمد یوسف صاحب (امیر جماعت ہائے احمد یہ پشاور ڈویژن نے مئی ۱۹۵۵ء میں مرحوم کی زندگی میں تحریر کئے تھے۔اور بعد وفات صرف وفات جنازہ اور تدفین والا حصہ ۱۲/۵۹/ ۲۱ کوتحریر کیا۔فَجَزَاهُ اللَّهُ اَحْسَنَ الْجَزَاء۔