اصحاب احمد (جلد 10) — Page 199
199 مرحوم بڑے دعا گو اور نیک سیرت بزرگ تھے (57) 6 خاکسار مؤلف کے ذیل کے تاثرات ان کی وفات پر شائع ہوئے تھے:۔مکرم میاں کرم الہی صاحب۔۔۔۔سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی تحریک پر اپریل ۱۹۴۸ء میں قادیان کی آبادی کی خاطر پاکستان سے آئے تھے۔آپ نے راقم کو بتایا تھا کہ آپ (نے) سید نا حضرت مسیح موعود کی بیعت ۱۹۰۸ء میں بمقام لاہور حضور کے وصال سے ایک دور روز قبل کی تھی۔چھ سات سال قبل آپ کا نور ہسپتال میں موتیا بند کا اپریشن ہوا۔لیکن آپ بینائی سے محروم ہو گئے جس صبر ورضا کے ساتھ آپ نے یہ سارا عرصہ گزارا۔قابل رشک تھا۔ان کی شدید خواہش ہوتی تھی کہ حسب سابق وہ مسجد مبارک میں امام کے قریب کھڑے ہو کر باجماعت نماز ادا کریں اور اپنے بعض رفقاء کو ساتھ لے کر آنے کی تاکید کرتے تھے۔نماز ظہر کے لئے بالعموم بہت پہلے آجاتے اور ظہر و مغرب کے بعد دیر تک نوافل ادا کرتے اور مغرب کے وقت آ کر عشاء پڑھ کر ہی اپنی قیام گاہ کو جاتے۔اور جو شخص ان کا ہاتھ پکڑ کر ان کو سیڑھیوں تک لے جاتا ایسے شخص کی رفاقت تک اس کے لئے ہی دعائیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ اسے نیک نیت بنائے وغیرہ۔اگر کوئی ان کو قیام گاہ تک پہنچا تا تو دریافت کرتے کہ کون ہو۔کس مکان میں قیام ہے۔اور اس کی خدمت کے باعث دعائیں دیتے۔غرض ان کی زندگی کا طرہ امتیاز دعائیں کرنا ہی تھا۔کئی سال سے شنوائی میں بھی بھاری پن آ گیا تھا اور ایک سال سے تو بہت مشکل سے بات سن سکتے تھے۔اور بالعموم اپنی چار پائی پر نوافل ادا کرتے دیکھے جاتے تھے۔غریب طبع اور صابر شاکر تھے۔معذوری سے قبل بھی کم گوہی پائے گئے۔خلیفہ وقت کی آواز پر لبیک کہہ کر دیار محبوب کی آبادی کے لئے آجانا اور بڑھاپے میں عزیز و اقارب میں آرام و سکون سے رہنے پر ترجیح دینا بہت بڑی قربانی ہے۔مرحوم سالہا سال سے دار اسیح میں اس کمرہ میں قیام رکھتے تھے۔جو ڈیوڑھی اور گول کمرہ کے درمیان ہے۔اور حافظ صدرالدین صاحب کی وفات کے بعد ڈیوڑھی کے ملحق شمالی جانب والے کمرہ میں منتقل کر دیے گئے۔جو جدید آپ نے ۲۳ دسمبر ۱۹۴۵ء کو چالیس روپے نقد کی جائیداد اور پچاس روپے سالانہ آمد کی اور ترکہ کی چوتھائی کی وصیت کی تھی آپ کا وصیت نمبر ۹۲۲۲ ہے۔آپ کو ۲ جون ۱۹۶۰ء کو بہشتی مقبرہ میں منتقل کیا گیا۔تاریخ سہو اغلط درج ہوئی ہے وہ امئی کو آئے تھے۔حافظ صدرالدین صاحب ۱۳ اپریل ۱۹۵۸ء کو فوت ہوئے۔