اصحاب احمد (جلد 10) — Page 183
183 نے ان کی تصویر بھی اتاری جو محفوظ ہے۔ورنہ ان کے گھرانے میں بھی ان کی کوئی تصویر موجود نہیں۔دیگر کوائف بھی اخویم انور صاحب نے حاصل کر کے مبیا فرمائے ہیں۔اس وقت انہوں نے اپنی عمر قریباً ساٹھ سال بتائی تھی۔رض میاں کرم الدین صاحب محترم میاں کرم الدین صاحب پسر حاجی جان محمد قوم کشمیری ساکن موضع پوہلہ مہاراں (ضلع سیالکوٹ) بعدہ متوطن چک نمبر ۳۳ جنوبی ملکے والا ( ضلع سرگودھا) قرآن مجید سادہ جانتے تھے۔مزید تعلیم کچھ نہ تھی۔آپ کا ایک ہی لڑکا محد جمیل تھا جو آپ کی زندگی میں ہی داغ مفارقت دے گیا تھا۔آپ بیان فرماتے تھے کہ :۔غالباً ۱۹۰۴ء کا ذکر ہے جب حضرت مسیح موعود لاہور آئے اور میاں معراج الدین صاحب کے مکان پر اُترے۔تھوڑے ہی عرصہ کے بعد دیکھا کہ ایک مولوی ٹانگے پر سوار ہو کر اس طرف آیا۔اور حضرت مسیح موعود کو گالیاں دینی شروع کیں۔بالآخر جب اس طرح گالیوں کو کارگر نہ دیکھا تو ٹانگے سے اتر کر سڑک پر جو ایک درخت تھا۔اس پر چڑھ گیا اور حضرت صاحب کو گالیاں دینی شروع کیں۔بعض احمدی احباب اس کی گالیوں کو سن کر جوش میں آنے لگے تو حضرت صاحب نے فرمایا کہ جو کچھ یہ کرتا ہے اسے کرنے دو۔اور کوئی جواب نہ دو۔لوگ اس شخص کو خوب سراہتے کہ وہ ٹاہلی والا مولوی ہے جومرزے کو گالیاں دیتا ہے۔حمید آپ جلسہ سالانہ میں باقاعدہ شمولیت کرتے تھے۔چندے بھی دیتے تھے۔فتنہ ارتداد ملکانہ کے موقع پر اپنے خرچ پر کئی ماہ تک آپ اس علاقہ میں تبلیغ کرتے رہے۔جب بھی سلسلہ کی خاطر قربانی کا کوئی موقع پیش آتا اپنا کام کاج چھوڑ کر خوشی وقت دیتے۔ہمیشہ تبلیغ میں مشغول رہتے تھے۔احمدیت کے خلاف بد زبانی برداشت نہیں کرتے تھے۔صوم وصلوٰۃ کے بڑے پابند تھے آپ پانچ فروری ۱۹۵۶ء کو فوت ہوکر بہشتی مقبرہ ربوہ میں مدفون ہوئے۔آپ کی وصیت ۱/۸ کی تھی۔اور دفتر اول تحریک جدید کے مجاہدین میں سے تھے۔آپ نے ۹۳ سال کی عمر میں وفات پائی۔یہ روایت اخویم مولوی عبدالرحمن صاحب انور نے ان سے ۲۰ جون ۱۹۳۳ء کو سن کر قلمبند کی تھی۔دیگر کوائف بھی انور صاحب ہی نے مہیا فرمائے ہیں۔