اصحاب احمد (جلد 10) — Page 136
136 آپ نے موضع کر یام میں مدرسہ احمدیہ اور مسجد احمدیہ کے قیام میں بھی حصہ لیا۔گو اس کے اخراجات کا زیادہ حصہ حاجی صاحب نے ہی برداشت کیا۔آپ کو مہمان نوازی کا بہت شغف تھا۔جس میں بہت مسرت محسوس کرتے۔لوگوں کے کاروبار میں بے دریغ اپنی ضمانت دے دیتے جس سے غرباء کو بہت سہارا ملتا۔رفاہ عامہ کے کاموں میں خوب شرکت کرتے تھے۔گوطبیعت بہت سادہ تھی لیکن معاملہ فہم تھی اور گومدرسہ کی تعلیم نہ پائی تھی۔تاہم دینی و دنیوی امور میں وسیع تجربہ رکھتے تھے۔آپ تین مربعہ اراضی کے مالک تھے اس لئے آپ کی مالی حالت بہت اچھی تھی اس لئے آپ وسعت قلب سے فی سبیل اللہ خرچ کرتے تھے۔اور غریبوں کی حاجت روائی کر کے انکی دعائیں لیتے تھے۔آپ کی شادی ۱۸۷۲ء میں محترمہ جیماں (دختر بلند خاں قوم راجپوت سکنہ موضع لنگڑو یہ تحصیل نواں شہر ضلع جالندھر ) سے ہوئی محترمہ صحابہ تھیں موضع کریام میں فوت اور دفن ہوئیں۔بوجہ موصیہ ہونے کے ان کا کتبہ بہشتی مقبرہ قادیان میں لگایا گیا۔آپ کی رفیقہ حیات نیک اور پارسا خاتون تھیں۔آپ کو اللہ تعالیٰ نے دو بیٹے دیئے چوہدری مہر خانصاحب ( جن کا تذکرہ آگے آتا ہے ) چوہدری نذیر احمد خانصاحب اور بیٹی محترمہ مہر النساء صاحبہ (صحابیہ ) عطا کیں۔آپ ۱۹۲۷ء میں راہی ملک بقا ہوئے اَللّهُمَّ اغْفِرْ لَهُمْ وَارْحَمْهُمْ۔آمین۔آپ موصی نہیں تھے۔آپ کر یام میں دفن ہوئے۔چوہدری مهر خانصاحب : - * * * آپ محترم چوہدری مراد بخش صاحب صحابی مذکورہ بالا کے ہاں ۱۸۸۳ء میں موضع کر یام ضلع جالندھر میں پیدا ہوئے اپنے گاؤں میں پرائمری سکول تک تعلیم حاصل کر کے نواں شہر میں مڈل میں داخل ہوئے لیکن آٹھویں میں آپ کو تعلیم چھوڑنی پڑی۔چوہدری بلند خانصاحب کے حالات اسی کتاب میں درج ہیں۔محترمہ مہر النساء صاحبہ مرحومہ کا تذکرہ ان کے خاوند مکرم چوہدری بشارت علی خان صاحب کے حالات میں اسی جلد میں درج کیا گیا ہے۔*** آپ بفضلہ تعالیٰ زندہ ہیں۔یہ حالات آپ ہی سے بذریعہ اخویم چوہدری احمد دین صاحب بی۔اے خلف حضرت حاجی غلام احمد خانصاحب حاصل کئے ہیں۔خاکسار نے آپ کو دیکھا ہوا ہے خاندانی حالات حضرت حاجی صاحب کے سوانح میں درج ہیں آپ حاجی صاحب کے چازاد بھائی ہیں۔