اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 129 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 129

129 انہیں یہ لکھ کر بھیجا کہ ” مجھے آپ سے محبت ہے۔اور حضور رضی اللہ عنہ جالندھر، ہوشیار پور کے لوگوں کو نصیحت فرمایا کرتے کہ قادیان آیا کرو۔اگر نہ آسکو تو کر یام ہو آیا کرو۔حمید صاحب رویاء :۔آپ نہایت مستجاب الدعوات اور صاحب رؤیا و کشف الہام تھے۔* * دعاؤں کی بہت عادت تھی۔اٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے یا تبلیغ فرماتے دعا کرتے۔کبھی کسی نے ساری عمر بھی مرحوم کو کوئی غیر ضروری بات کرتے نہیں دیکھا۔چہرہ خوبصورت تھا۔اور نُورُهُمْ يَسْعَىٰ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ (41) کا مصداق۔حضرت خلیفہ امسیح الثانی سے عشق :۔حضرت امیر المومنین خلیفہ اسی الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے عشق تھا۔جس نسبت سے کسی کو حضور ایدہ اللہ سے محبت ہوتی اسی نسبت سے آپ اس آدمی سے محبت کرتے۔آپ اپنے چا چوہدری مراد بخش صاحب کی معیت میں 1911ء میں حج بیت اللہ کے لئے تشریف لے گئے تو اس سفر میں دوماہ کا عرصہ ہو چکا تھا۔پھر بھی مقدس قادیان اور حضرت خلیفہ المسیح اول کی محبت کشاں کشاں قادیان لے آئی جہاں حضور کی صحبت فیض پاش میں کئی روز بسر کر کے پھر آپ اپنے وطن تشریف لے گئے۔محترم چوہدری نور احمد صاحب متوطن موضع سروعه ( پنشنر خزانچی صدر انجمن احمد یہ ) نے بیان کیا کہ ایک دفعہ میری موجودگی میں موضع کریم پور (ضلع جالندھر) کے احباب حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں ملاقات کے لئے حاضر ہوئے تو آپ نے ان کو نصیحت فرمائی کہ آپ بار بار قادیان آتے رہیں تا ایمان تازہ رہے۔انہوں نے اپنی مجبوریاں پیش کیں کہ ہم کھیتی باڑی کا کام کرتے ہیں اس کی مصروفیات کی وجہ سے فرصت نہیں ملتی۔تو فرمایا اچھا اگر قادیان نہ آسکو تو حاجی غلام احمد صاحب کے پاس کر یام ہو آیا کرو۔حاجی صاحب کے عزیز چوہدری عبدالغنی خانصاحب بیان کرتے ہیں کہ ۱۹۱۰ء کے جلسہ سالانہ پر بعض خاص حالات کی وجہ سے مستورات کے آنے کی ممانعت تھی۔جلسہ کے بعد ماہ مئی میں میں قادیان میں تھا۔میں نے درخواست لکھی کہ ہمارے خاندان کی بعض مستورات اپنے اشتیاق کی وجہ سے قادیان کی زیارت کرنا چاہتی ہیں اس لئے حاجی صاحب کو اجازت دی جائے کہ وہ مستورات کو اپنے ہمراہ قادیان لاسکیں۔اس پر حضرت خلیفہ اول نے تحریر فرمایا۔کہ حاجی غلام احمد صاحب نہایت مخلص آدمی ہیں مجھے ان سے محبت ہے۔میں یہ لکھ کر انہیں اجازت دیتا ہوں کہ وہ عورتوں کو اپنے ہمراہ قادیان لا سکتے ہیں چنانچہ حاجی صاحب مستورات کو لائے اور وہ حضور کی زیارت سے مشرف ہوئیں۔اخویم چوہدری احمد دین صاحب بیان کرتے ہیں کہ آپ نے خواب دیکھا کہ آپ کے چچازاد بھائی چوہدری مہر خاں صاحب نمبر دار ہوئے ہیں۔چنانچہ وہ جلد تحصیل اوکاڑہ میں نمبر دار مقرر ہو گئے۔بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر