اصحاب احمد (جلد 10) — Page xiv
V نئے تبصرے راقم آثم اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ کناں ہے کہ اس کی حوصلہ افزائی کے لئے اس کی تالیفات کا ذکر سلسلہ کے لٹریچر میں آتا رہتا ہے۔حضرت نواب محمد عبد اللہ خانصاحب کی وفات پر الفضل نے ۲۱ ستمبر کے ایشوء میں اور مکرم محترم ملک غلام فرید صاحب ایم۔اے مترجم القرآن (انگریزی) نے ۲۹ ستمبر کے پرچہ میں اپنے مضمون میں اصحاب احمد جلد دوم کا ذکر کیا۔اور بدر نے بھی اس موقع پر اسی تالیف سے استفادہ کر کے خلاصہ دیا (گواس تالیف کا انہوں نے ذکر نہیں کیا ) اس سے قبل حضرت خان صاحب منشی برکت علی صاحب شملوی کے سوانح بھی ان کی وفات پر انہی تالیفات سے (بدوں ذکر کرنے کے) لئے گئے۔حضرت چوہدری غلام محمد صاحب بی۔اے ( علیگ) ( سابق مینجر نصرت گرلز ہائی سکول قادیان) کی وفات پر ان کے ایک صاحبزادہ نے تحریر فرمایا۔کہ حضرت والد صاحب نے کتاب کو تا وفات اپنی میز پر اپنے سامنے رکھا اور بار بار بچوں سے سنتے تھے۔فالحمد للہ علی ذالک۔گذشتہ جلدوں میں سید نا حضرت خلیفہ مسیح الثانی ایدہ اللہتعالی اور دیگر بزرگوں کے تبصرے درج ہو چکے ہیں۔اب ذیل میں نئے تبصرے درج کئے جاتے ہیں۔ا۔حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب۔(پرنسپل تعلیم الاسلام کالج ربوہ ) رقمطراز ہیں :۔ایمان درست نہیں ہوتا جب تک انسان صاحب ایمان کی صحبت میں نہ رہے۔“ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا:۔( حضرت مسیح موعود علیہ السلام ) خوش قسمت وہی انسان ہے جو ایسے مردان خدا کے پاس رہ کر ( جن کو اللہ تعالیٰ اپنے وقت پر بھیجتا ہے ) اس غرض اور مقصد کو پالے جس کے لئے وہ آتے ہیں۔( ملفوظات جلد دوم صفحه ۱۱) ایسے خوش قسمت بزرگ جنہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پاک صحبت نصیب ہوئی اور جنہوں نے اس