اصحاب احمد (جلد 10) — Page 89
89 پر موضع کریام کے مبائعین میں اہلیہ طفیل محمد صاحب اہلیہ محمد علی صاحب اور والدہ غلام احمد صاحب باقی حاشیہ اگلے صفحہ پر محترمہ زینب بیگم صاحبہ بہت سخاوت کرنے والی احکام دینیہ پر عامل اور پابند صوم وصلوۃ تھیں۔اپریل ۱۹۲۸ ء میں رحلت فرمائی موضع کریام ہی میں مدفون ہوئیں۔لیکن آپ کے نام کا کتبہ بہشتی مقبرہ قادیان میں لگایا گیا۔سگی ہمشیرہ کی بیعت:۔حاجی صاحب کی سگی ہمشیرہ محترمہ دولت بیگم صاحبہ اہلیہ چوہدری بھمبوخان صاحب سکنہ موضع سڑوعہ کو بھی حضرت مسیح موعود کی زیارت کا بحالت ایمان موقع ملا۔اور وہ آخر تک احمدیت سے وابستہ رہیں۔اور ۱۹۳۶ء میں وفات پائی۔(بیان چوہدری مہر خان صاحب) آپ انداز ۱۸۷۳۴ء میں بمقام کریام پیدا ہوئیں۔۱۸۹۱ء میں آپ کی شادی ہوئی میاں بیوی کے تعلقات بہت خوشگوار تھے۔خاوند بھی صحابی تھے۔مرحومہ کو کئی بار قادیان آنے کا موقع ملا۔جذبہ خدمت ان میں بہت تھا۔چندوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی تھیں۔تعمیر مساجد بیرونی ممالک کے چندہ میں بھی انہوں نے شرکت کی تھی۔صوم وصلوٰۃ کی بہت پابند تھیں۔اور خواتین میں بہت مقبول تھیں۔آپ نے بعمر تریسٹھ سال ۱۹۳۶ء میں بقیہ حاشیہ صفحہ سابقہ:۔کے اسماء مرقوم ہیں ان سے مراد حاجی صاحب کی دونوں سوتیلی ہمشیرگان امیر النساء بیگم صاحبہ اہلیہ چوہدری طفیل محمد صاحب اور محمد جان صاحبہ اہلیہ چوہدری محمد علی صاحب اور سوتیلی والدہ زینب بیگم صاحبہ ہی مراد ہیں۔دوسری دونوں والدہ قبول احمدیت سے قبل فوت ہو چکی تھیں۔یہ دونوں ہمشیرگان علی الترتیب ۱۹۱۱ ء اور ۱۷ جون ۱۹۵۹ئمیں فوت ہوئیں۔انہوں نے اور ان کی والدہ صاحبہ نے حضرت مسیح موعود کی زیارت بحالت ایمان کی تھی۔گویا صحابیات تھیں۔اور آخر وقت تک احمدیت پر قائم رہیں۔محمد جان صاحب کی وفات چک ۲۶ اسلام آباد پھالیہ ضلع گجرات میں ہوئی۔بحوالہ (24) ہمشیرہ غلام احمد صاحب کریام کی بیعت بھی البدر بابت ۴ ستمبر ۱۹۰۳ء میں درج ہے (صفحہ ۲۶۴) خاکسار کے استفسار پر چوہدری احمد دین صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ مراد محترمہ دولت بیگم صاحبہ ہیں اس لئے کہ حاجی صاحب کی دوسری سگی ہمشیرہ محترمہ حشمت بیگم صاحبہ اہلیہ چوہدری مولا بخش صاحب اپنے بچے چوہدری عبدالغنی صاحب (جن کی ولادت ۱۸۹۵ ء کی ہے ) کی چھ سات سال کی عمر میں وفات پاگئی تھیں گویا انداز ۱۹۰۲ ء میں جبکہ ابھی حاجی اور ان کے اقارب نے بیعت نہیں کی تھی۔چوہدری احمد دین صاحب یہ بھی ذکر کرتے ہیں کہ یہ چوہدری بھمبو خانصاحب تقسیم ملک سے قبل وفات پاگئے تھے۔ان کے ہم نام جو بحالت درویشی فوت ہوئے اور تھے گو وہ بھی موضع سر وعہ کے باشندہ تھے۔