اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 88 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 88

88 جو سنت مٹ چکی ہو جیسا کہ ہماری قوم میں نکاح بیوہ کو جاری کرنا احیاء سنت ہے۔اس پر زیارت ہوتی ہے۔جو جن دنوں بیعت کر کے کریام آیا یعنی فروری ۱۹۰۳ء میں سلسلہ عالیہ احمدیہ کی مخالفت شدت سے ہوئی ان دنوں جو شخص ہماری باتیں سنتا وہ احمدیت کو اختیار کر لیتا۔پھر ایک وقت آیا کہ مخالفت دور ہوگئی۔ہمارے پاس لوگ آتے مگر کوئی نہ مانتا۔اس پر میری سمجھ میں آیا کہ حضور کے فرمان کے مطابق جو بیعت کے وقت آپ نے فرمایا تھا کہ جلدی جماعت ہو جاوے گی۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی ہماری جماعت قائم ہوئی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس جو کوئی آکر کہتا کہ حضور ہماری جماعت کی بڑی مخالفت ہو رہی ہے۔آپ فرماتے زندہ جماعت ہے اور یہ آیت بھی سمجھ میں آئی۔عَسَى أَنْ تُحِبُّو شَيْئًا وَ هُوَ شَرٌّ لَكُمْ (23) سوتیلی والدہ کی بیعت:۔حاجی صاحب کے والد ماجد کی تین بیویاں تھیں۔زوجہ اول وز وجہ ثانی ( جو حاجی صاحب کی سگی والدہ تھیں ) احمدیت سے قبل وفات پاگئی تھیں تیسری والدہ محترمہ زینب بیگم صاحبہ قوم راجپوت سکنه موضع جالہ تحصیل نواں شہر کی شادی انداز ۱۸۸۴ء میں ہوئی تھی۔آپ کا بچہ عبدالرحمن صغرسنی میں وفات پا گیا تھا۔آپ کو اور آپ کی دونوں دختران کو بھی حاجی صاحب کی بیعت کے بعد ۱۹۰۳ء ہی میں احمدیت قبول کرنے کی تو فیق حاصل ہوئی۔بلکہ تینوں ماں بیٹیوں کو قادیان جا کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت کر کے صحابیات میں شامل ہونے کا شرف بھی ملا۔حاجی صاحب نے ۱۹۰۴ء میں اپنی سوتیلی بہنوں محترمہ امیر النساء کی شادی مکرم چوہدری طفیل محمد خاں صاحب سے اور محترمہ محمد جان صاحبہ کی شادی مکرم چوہدری محمدعلی صاحب سکنہ کر یام سے کر دی تھی۔مرحومہ نے دسویں حصہ کی وصیت کر کے اپنی زندگی میں حصہ جائیداد ادا کر دیا تھا۔محترم نعمت خانصاحب موصوف کی بیعت کا اندراج البدر مورخہ ۳۱ جولائی ۱۹۰۳ء صفہ ۲۲۴ کالم ۳ میں موجود ہے۔الحکم مورخہ ۱۴ فروری ۱۹۱۰ ء ( صفحہ ۹ ) میں تفصیلاً ذکر ہے کہ سروعہ میں جان کا خطرہ تھا نعمت خاں صاحب نے قادیان پہنچ کر بیوہ سے شادی کر لی۔اور موضع کریام میں پناہ لی۔بیوہ کے بھائی نے جو کانٹیبل تھا ز دوکوب کیا۔اور دروازہ بند نہ کر لیا جاتا تو جان سے ماردیتا اور تھانیدار کے راجپوت قوم کا ہونے کے باعث عدالت میں بھی مقدمہ خارج ہو گیا۔مئوقر الحکم نے حکام بالا کو انصاف کے لئے توجہ دلائی۔مئولف کے استفسار پر چوہدری مہر خاں صاحب (صحابی) نے لکھا کہ البدر بابت ۴ ستمبر ۱۹۰۳ء میں جو صفحہ ۲۶۴