ارضِ بلال

by Other Authors

Page 274 of 336

ارضِ بلال — Page 274

ارض بلال- میری یادیں ) ادھر پہلے بلاک کی تعمیر مکمل ہوئی اور ساتھ ہی تعلیمی سال کے آغاز کا وقت آگیا۔اس لئے نئی کلاس کا داخلہ شروع کر دیا گیا۔جس دن سکول کا باقاعدہ افتتاح ہونا تھا۔اسی روز پرنسپل صاحب پاکستان سے گیمبیا پہنچے اور پھر وہ سیدھے ایئر پورٹ سے تقریباً چار سوکلومیٹر کا سفر طے کر کے بصے پہنچ کر اس تقریب سعید میں شامل ہوئے۔سکول کا آغاز احمدیت کی مخالفت تو باقی الہی سلسلوں کی طرح روز اول سے ہی چلی آ رہی ہے۔گیمبیا میں بھی جماعت کی مخالفت مختلف سطحوں پر ہوتی رہتی ہے۔جب جماعت نے گیمبیا میں ایک نیا ہائی سکول کھولنے کا فیصلہ کیا اور گورنمنٹ نے بصے میں سکول کھلنے کی اجازت دی۔اب بصے کی لوکل انتظامیہ نے زمین کے حصول میں رکاوٹیں ڈالنی شروع کر دیں۔خاص طور پر لوکل چیف مسٹر قربانی صاحب بھی جماعت کے لوکل مخالف طبقہ اور ان کے زہریلے پراپیگنڈہ سے متاثر ہو گئے۔اس لئے انہوں نے اپنے گاؤں میں زمین دینے سے انکار کر دیا۔اس نازک صورت حال میں بصے کے ایک قریبی گاؤں مانے کنڈا کے ایک باسی مکرم احمد و مانے صاحب جو ایک بہت مخلص اور بہادر اور صاحب اثر ورسوخ احمدی دوست تھے انہوں نے بڑی تگ ودو کے بعد اپنے علاقہ کے معززین سے مل ملا کر مانسبجنگ کنڈا کے قریب سکول کے لئے ایک وسیع و عریض جگہ لے دی جہاں آجکل ناصر احمد یہ مسلم ہائی سکول کی خوبصورت اور وسیع وعریض بلڈنگ ہے۔ابتدائی سٹاف ممبر سعید احمد چھٹہ صاحب (پرنسپل)۔منور احمد خورشید ( مربی سلسلہ ) محمد و باه ( ٹیچر ) کلائیو ( ٹیچر۔وی ایس او)۔نڈے گا سما (سیکریٹری)۔جارا ( میسنجر )۔ڈبی تراول (چوکیدار ) 274