ارضِ بلال — Page 275
۔میری یادیں سکول کی مالی حالت ایک دفعہ خاکسار سکول کے پرنسل مکرم سعید احمد چھٹہ صاحب کے ہمراہ کسی سفر سے واپس اپنے شہر بصے کو آرہا تھا۔راستہ میں ہم نے دیکھا کہ ایک حادثہ شدہ پرانی سی گاڑی سڑک کے کنارے شکستہ حالت میں پڑی ہے۔سوائے باڈی کے اس کی ہر چیز غائب تھی۔مکرم چھٹہ صاحب نے جب اس گاڑی کو دیکھا تو کہنے لگے۔اگر ہم کسی ویلڈر کے ذریعہ اس گاڑی کی ایک سائد کاٹ لیں اور پھر اس کو ٹھیک کرا کے اس کا اپنے سکول کے لئے بڑا سا سائن بورڈ بنالیں جسے سکول کے مین گیٹ پر لگا دیں۔تو اس سے ہر راہ گزرکو سکول کے بارے میں علم ہو جائے گا۔اگر چہ بوجوہ اس تجویز پر عمل تو نہ ہو سکا۔مگر یہ واقعہ سکول کی مالی حالت اور اس کی کسمپرسی کی بخوبی عکاسی کرتا ہے۔ناصر احمد یہ مسلم ہائی سکول کے بعض شیر میں اثمار مکرم الحاجی با ہ صاحب گزشتہ دنوں مکرم الحاجی صاحب سے ملاقات ہوئی جو آجکل گیمبیا میں محکمہ تعلیم میں کسی نمایاں عہدہ پر تعینات ہیں۔بڑے پیار اور احترام سے ملے۔یہ جلسہ سالانہ انگلستان میں شرکت کے لئے تشریف لائے ہوئے تھے۔انہیں مل کر میں پچھیں چھبیس سال پہلے کے وقتوں میں جا پہنچا۔جب ایک روز میں مکرم عمر علی صاحب طاہر مبلغ سلسلہ کے پاس فرافینی گیا ہوا تھا۔ہم لوگ مشن ہاؤس میں جو کہ کرایہ پر لیا ہوا ایک مکان تھا، اس میں بیٹھے ہوئے تھے۔اسی دوران تین دیہاتی بچے اجازت لیکر ہمارے کمرہ میں آئے۔مکرم عمر علی صاحب نے ان کے بارے میں بتایا کہ یہ تینوں بچے الحمد للہ احمدی ہیں اور یہ فرافینی سے قریبی جماعت ڈوٹا بولو کے رہنے والے ہیں اور فرافینی کے سیکنڈری سکول میں زیر تعلیم ہیں۔( گیمبیا میں جن طلبہ کے پرائمری سکول کے فائنل امتحان میں نمبر کم ہوں ان کو ہائی سکول کی بجائے سیکنڈری سکول میں داخلہ مل سکتا ہے ) مجھے بچے بڑے اچھے لگے۔میں نے واپس بصے آکر مکرم چھٹہ صاحب سے ان بچوں کے داخلہ کے بارے میں بات کی کہ 275