ارضِ بلال — Page 221
ارض بلال- میری یادیں عیسائیت سے متاثر نوجوانوں کا قبول احمدیت مکرم مولوی عمر علی طاہر صاحب کی پہلی تقرری گیمبیا کے ایک قصبہ فرافینی میں ہوئی۔چونکہ یہ علاقہ منڈ نکا زبان بولنے والوں کا تھا۔آپ نے یہاں منڈ نکا زبان سیکھ لی۔فرافینی کے قریب ایک فولانی گاؤں ہے۔جس کا نام ڈوٹا بگو ہے۔اس گاؤں میں چند احمدی دوست تھے۔گاؤں کے کافی ساری نوجوان عیسائیت کی طرف مائل تھے۔مکرم عمر علی صاحب نے بڑی حکمت عملی سے اس گاؤں میں تبلیغی پروگرام شروع کئے۔عیسائیت سے متاثرہ نوجوانوں سے انفرادی اور اجتماعی روابط پیدا کیے۔اللہ تعالی نے ان کی مساعی جمیلہ میں برکت ڈالی۔پھر آہستہ آہستہ تقریباً سارے نوجوان احمدیت کی آغوش میں آگئے۔اسی طرح یا کل با نامی گاؤں میں چند مخلص نوجوان داخل احمدیت ہوئے۔جن کے والدین احمدی نہ ہوئے بلکہ شدید مخالف تھے۔لیکن ان نوجوانوں کی استقامت بہت ہی قابل تعریف ہے۔تبلیغی آڈیو کیسٹس کے ذریعہ سے دعوت الی اللہ کے ثمرات سالکینی میں بفضلہ تعالیٰ ایک مخلص جماعت ہے۔وہاں ایک نو جوان مکرم شریف کو لی صاحب تھے جو گیمبیا کے ایک ادارہ میں اعلیٰ عہدہ پر متعین تھے۔آپ احمدیوں کے اعلیٰ اخلاق کے تو معترف تھے ،لیکن انہیں جماعت کے چند عقائد سے اختلاف تھا۔کئی بار ان سے بات چیت ہوئی لیکن وہ مطمئن نہ ہوئے۔اسی دوران ان کی پوسٹنگ بصے نامی قصبہ میں ہوگئی جہاں پر مکرم مولوی عمر علی صاحب طاہر مبلغ تھے۔مکرم مولوی صاحب نے مکرم شریف صاحب کو گیمبیا جماعت کی تیار کردہ تبلیغی آڈیو کیسٹس دیں۔اللہ تعالیٰ نے مولوی صاحب کوششوں میں برکت ڈالی، جس کے نتیجہ میں اللہ تعالی نے مکرم شریف صاحب کو شرح صدر فرما دیا اور انہوں نے بفضلہ تعالی برضا و رغبت احمدیت قبول کر لی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے ان کی دنیا ہی بدل گئی۔جماعت کے ساتھ اخلاص وفا میں بہت ترقی کی۔ہر جماعتی حکم پر لبیک کہتے ،نمازوں میں التزام پیدا ہو گیا۔چندہ جات بڑی با قاعدگی اور شرح 221