ارضِ بلال

by Other Authors

Page 107 of 336

ارضِ بلال — Page 107

ارض بلال۔میری یادیں لوگوں کے بہت سے عزیز موریطانیہ میں بھی رہتے تھے۔وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے عرفت مربی بفسخ العزائم فرافینی میں ایک غیر احمدی عربی استاذ مکرم عمرفان صاحب بعض اوقات ہماری مسجد میں آکر نماز پڑھتے تھے۔ان کو ایک دفعہ میں نے جماعت کے عربی رسالہ التقویٰ کا صد سالہ جو بلی نمبر دیا۔وہ رسالہ کو اپنے ساتھ اپنے گاؤں چا کو لے گئے۔وہاں پر بعض اماموں اور اساتذہ کو وہ رسالہ دکھایا۔ایک دفعہ اس علاقہ میں خاکسار دورہ پر گیا ہوا تھا۔وہاں کے ایک عربی استاذ سے ملاقات ہوئی۔ان کا جماعت سے تعارف رسالہ التقویٰ کے ذریعہ سے پہلے ہو چکا تھا۔ان سے کافی باتیں ہوئیں۔اس طرح اللہ تعالی نے ان پر فضل کیا اور انہوں نے بیعت کر لی اور کہنے لگے میرے ایک دوست مکرم گوک جارا صاحب ہیں جو کر کی با مبرا نامی گاؤں میں رہتے ہیں اور وہاں پر عربی مدرسہ میں پڑھاتے ہیں۔اگر ہم ان کے پاس جائیں اور انہیں جماعت کا تعارف کرائیں تو امید ہے کہ وہ بھی انشاء اللہ احمدی ہو جائیں گے۔پھر ان کے علاقہ میں بھی احمدیت کا نور پھیل جائے گا۔چونکہ ہم لوگ گیمبیا سے آئے ہوئے تھے اور کافی دنوں سے مسلسل سفر پر تھے۔تھکاوٹ سے برا حال تھا لیکن یہ خواہش غالب آئی کہ شاید اللہ تعالیٰ اس نئے علاقہ میں بھی جماعت کا پودا لگا دے۔اس لئے اس گاؤں کے لئے روانہ ہو گئے اور لمبا سفر طے کر کے اس گاؤں میں پہنچے۔جب اپنے میزبان کے گھر آئے تو معلوم ہوا کہ وہ تو سفر پر گئے ہوئے ہیں۔اس سے بہت ذہنی کوفت ہوئی۔تھکاوٹ سے بدن پہلے ہی چور ہو چکے تھے۔بہر حال ان کے صحن میں صف بچھائی اور اس پر بیٹھ گئے۔چونکہ شام بھی ہونے والی تھی۔سفر کی تھکاوٹ سے برا حال تھا۔پھر استاذ صاحب سے بھی ملاقات نہ ہوئی۔اس لئے سوچ رہے تھے کہ جلدی کسی اور جگہ جا کر آرام کریں کیونکہ مناسب جگہ نہ ملنے کی وجہ سے رات بسر کرنا بہت مشکل کام ہوتا تھا۔پھر ہمارے لئے تو یہ بالکل ایک نیا علاقہ تھا۔107