ارضِ بلال

by Other Authors

Page 73 of 336

ارضِ بلال — Page 73

ر ارض بلال۔میری یادیں یہ ملک کمیونسٹ بلاک کے زیر انتظام رہا ہے اس لئے ہر کسی کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔اس کے لوگ پرتگیز قوم کے زیر اثر رہ کر جنگجو بن چکے ہیں۔اس قوم نے اپنے سابقہ حکمرانوں سے باقاعدہ لڑ کر آزادی حاصل کی ہے۔ہمسایہ ممالک میں اگر کوئی رشوت مانگتا ہے تو چائے پانی کا نام لیتا ہے لیکن گنی بساؤ میں رشوت طلب کرنے والا شراب کے لئے مانگتا ہے۔شراب نوشی نے ان کے چہروں سے چمک اور روشنی چھین لی ہے۔اس ملک کے جن علاقوں میں مسلمانوں کی کثرت ہے ان کے چہرے روشن ہیں۔بساؤ شہر میں مسلمان مسافر کو حلال کھانے پینے کی سخت مشکلات پیش آتی ہیں۔بساؤ میں شراب کی کثرت کی بنا پر فضا میں بُو ہوتی ہے۔یہ ملک عرصہ دراز سے خانہ جنگی کا شکار ہے اور ہر لحاظ سے تباہی کے کنارے پر کھڑا ہے۔مالی، اخلاقی ، سیاسی تعلیمی ، مذہبی اعتبار سے انحطاط کا شکار ہے۔گنی بساؤ میں احمدیت ایک دفعہ ایک مریض گنی بساؤ سے گیمبیا میں ایک احمدی ڈاکٹر محمد اشرف صاحب کے پاس علاج کی غرض سے آیا۔علاج کے سلسلہ میں اسے چند دن یہاں ہی قیام کرنا تھا۔اس دوران مکرم ڈاکٹر صاحب اور دیگر کارکنان کے ساتھ اس کا احمدیت کے بارے میں بات چیت کا سلسلہ چلتا رہا۔اس آدمی کا نام مسٹر فاطی تھا۔اسے جماعت کی تعلیم اور عقائد بہت اچھے لگے اور اس نے بیعت کر لی۔اس طرح میرے علم کے مطابق یہ گنی بساؤ کے پہلے احمدی ہیں۔1985 ء میں ایک وفد گنی بساؤ سے مکرم شناچام مرحوم کی زیر قیادت جلسہ سالانہ گیمبیا میں شرکت کے لیے آیا تھا۔اس وفد میں وہ نوجوان بھی شامل تھا۔73