ارضِ بلال — Page 210
ارض بلال- میری یادیں ) مکرم طفیل گھمن صاحب اور مکرم فضل احمد مجو کہ صاحب بطور جنگی مہاجرگنی بساؤ سے سینیگال میں آئے تھے۔اس لئے سینیگال کی حکومت انہیں یہاں سے نکال نہیں سکتی۔ہم لوگوں نے اس رعایت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مکرم فضل احمد مجو کہ صاحب کو کولڈا کے علاقہ میں ایک گاؤں میں بھیج دیا۔یہاں ایک غیر احمدی دوست کے گھر کا ایک کمرہ کرایہ پر لے لیا جس میں کوئی بھی بنیادی سہولت بتھی۔مکرم فضل احمد مجو کہ صاحب کچھ عرصہ کے لئے سینیگال میں رہے۔ان کے پاس کوئی ویزہ نہیں تھا نہ ہی انہیں یہاں کوئی کام کرنے کی اجازت تھی۔اللہ تعالی انہیں جزائے خیر دے۔انہوں نے بہت اخلاص اور محنت سے کام کیا۔تعلیم و تربیت کے علاوہ کولڈا ریجن میں مساجد بھی تعمیر کرائیں۔مکرم محمد طفیل گھمن صاحب کو سیجو کے علاقہ میں بھیجا گیا۔انہوں نے بھی حسب توفیق خدمت کی۔مکرم صالی جابی صاحب کا ذکر خیر جب میں پہلی بارسینی گال گیا تو ایک گاؤں بیچ میں بھی گیا تھا۔وہاں تین احمدی دوست تھے۔مکرم صالی جابی، بیروم باہ اور علیو سوہ فوٹو گرافر - صالی جابی صاحب کا گھر ایک بڑی معروف سڑک کے کنارے پر تھا۔میں نے قریبا ہمیں سال تک اس گھر میں بہت دفعہ راتیں گزاریں ہیں۔صالی صاحب عربی استاذ تھے۔جب میں سینیگال میں بطور مبلغ گیا تو انہوں نے بطور معلم میرے ساتھ کا م شروع کیا۔پھر تا حیات اس رشتہ کو بڑی وفا کے ساتھ نبھایا۔زیادہ تر میرے پاس ڈاکار میں ہی رہتے تھے۔میں اکثر سفر پر رہتا تھا۔صالی صاحب اکثر میرے گھر میں میری فیملی کے پاس ہوتے۔اس لئے مجھے کوئی فکر نہ ہوتی تھی۔بہت ایماندار اور مخلص دوست تھے۔میرے تبلیغی اور تربیتی کاموں میں بہت ہی ممد و معاون تھے اور بیشتر درس و تدریس میں ترجمانی کا فریضہ ادا کرتے۔ایک بار جلسہ انگلستان میں بھی شرکت کی سعادت نصیب ہوئی۔چند سال قبل اللہ کو پیارے ہو گئے 210