ارضِ بلال — Page 209
ارض بلال۔میری یادیں محترمہ بہت زیادہ مہمان نواز ہیں۔گیمبیا میں ہر روز بلا ناغہ ان کے دستر خوان پر بہت سارے لوگ کھانا کھاتے تھے۔جن میں پاکستانی جماعتی کارکنان کے علاوہ افریقن بہن بھائی بھی شامل ہوتے۔ان کی رہائش بانجول میں احمدیہ مشن ہاؤس میں تھی۔یہ ایک چھوٹا سا گھر تھا جس کی نچلی منزل میں نماز ادا کرتے تھے اور ایک کمرہ مکرم امیر صاحب بطور دفتر استعمال کرتے تھے۔اوپر والے حصہ میں ان کی رہائش تھی۔اس حصہ میں صرف تین چھوٹے چھوٹے سے کمرے تھے اور ان کے سامنے ایک برآمدہ تھا۔بسا اوقات تو ان تینوں کمروں میں باہر سے آئے ہوئے مبلغین کی فیملیاں ہوتیں اور انکی اپنی فیملی اس دوران برآمدہ میں پردے لٹکا کر منتقل ہو جاتی اور یہ سلسلہ سال بھر یونہی چلتا رہتا۔کیونکہ ملک بھر میں خدمت دین کرنے والے ڈاکٹر صاحبان، مبلغین کرام اور اساتذہ کرام کو مختلف ضروریات کے پیش نظر با نجول میں ہی آنا پڑتا تھا۔سب کارکنان کا اپنے چھوٹے بھائیوں کی طرح خیال رکھتیں۔خصوصاً ہمارے بچوں سے بہت پیار اور شفقت سے پیش آتیں۔آج تک ان کا ہمارے بچوں کے ساتھ ایک شفیق ماں کا رشتہ ہے۔كان الله معهم۔ایک قابل قدرنو جوان فضل احمد مجو کہ صاحب مکرم فضل احمد مجو کہ صاحب پاکستان سے بطور مربی 1997ء میں گیمبیا تشرف لائے۔اسی سال گیمبیا میں اینٹی احمد یہ تحریک چلی جس کے نتیجہ میں جماعت کے پاکستانی کارکنان کو وہاں سے ہجرت کرنی پڑی۔مکرم فضل احمد مجو کہ صاحب اور مکرم محمد طفیل گھمن صاحب کو گنی بساؤ بھجوادیا گیا۔کچھ عرصہ کے بعد گنی بساؤ میں فوجی انقلاب آ گیا۔جس کے نتیجہ میں ملک بھر میں قتل و غارت اور فتنہ فساد کا بازار گرم ہو گیا۔ان حالات میں وہاں مشن کے کارکنان کا رہنا ممکن نہ تھا۔اس لئے یہ لوگ گنی بساؤ سے سینیگال کے ملحقہ علاقہ کولڈا میں آگئے۔209