ارضِ بلال — Page 179
ارض بلال۔میری یادیں تعداد کے لحاظ سے فرقہ ملک کی مضبوط ترین جماعتوں میں سے بن سکتا ہے لیکن باہمی اختلافات اور اندرونی خلفشار کے باعث ملک میں سیاسی طاقت حاصل نہیں کر پاتے۔دینی مدارس میں طرز تعلیم والدین اپنے بچے عربی اساتذہ کے پاس چھوڑ آتے ہیں اور پھر وہ بچے لکڑیوں کے ایک ڈھیر کو آگ لگا کر ایک الاؤ روشن کر کے اس کے ارد گرد بیٹھ کر رات گئے تک اپنے اپنے اسباق یاد کرتے ہیں۔ان کی کتاب لکڑی کی تختی نما پھٹی ہوتی ہے جس پر استاذ صاحب اپنے ہاتھوں سے قرآن پاک کی سورتیں لکھ دیتے ہیں جن کو طالب علم (الموڈ و یا طالبے) اونچی اونچی آواز میں ہل ہل کر حفظ کرتے رہتے ہیں۔جس طرح کسی زمانہ میں ہم لوگ پرائمری سکول میں پہاڑے حفظ کیا کرتے تھے، جہاں پر حفظ کم اور ملتے زیادہ تھے۔پھر جو نبی ہلکی ہلکی صبح کی روشنی پھوٹتی ہے ، سب طلبہ اپنا اپنا ڈبہ اٹھائے گروپس کی شکل میں علاقہ بھر میں پھیل جاتے ہیں اور ہر گھر کے دروازہ پر دستک دے کر گیری اللہ اللہ کے نام پر ) کی صدا بلند کرتے ہیں۔پھر صاحب خانہ جو بھی ان کو دے دے، پوری ایمانداری کے ساتھ اپنے پیر ومرشد کی نذر کرتے ہیں اور اگر کوئی طالب علم اپنی غفلت اور کوتاہی کے باعث استاذ صاحب کی جانب سے مقرر شدہ نقد و جنس لے کر حاضر خدمت نہیں ہوتا ، اس کو اس غلطی کے لئے جواب دہ ہونا پڑتا ہے۔عربی اساتذہ طلبہ ایک لمبا عرصہ کما حقہ تعلیم تو حاصل نہیں کر پاتے۔ہاں اپنے استاذ اور اس کے اہل خانہ کے لئے حصول معاش کا فریضہ احسن طور پر ادا کرتے ہیں۔ہاں کسی بھی معلم یا استاذ کے پاس اگر اس کے طلبہ کی تعداد بڑی ہوگی اسی قدر اس کی مالی حالت بہتر ہوگی۔اس لئے یہ اساتذہ انگریزی طرز تعلیم کو مذہب اسلام کے لئے زہر قاتل سمجھتے تھے اور ماں باپ کو اس کے زہریلے اثرات سے باخبر رکھنے کی پوری پوری کوشش کرتے تاکہ ان کے معصوم نو نہال کہیں دہریت یا نصرانیت کی خون آشام 179