ارضِ بلال — Page 165
ارض بلال۔میری یادیں سنایا کہ یہ لوگ فرینکفرٹ تو نہیں جا سکتے۔بلکہ ان کو واپس Senegal بھجوا ر ہے ہیں۔یہ رات کے قریباً 12 بجے کا وقت تھا۔صرف چند ایک ایئر لائینز کے دفاتر کھلے ہوئے تھے۔ایئر پرتگال والوں سے بات کی مگر وہ تو بات سننے کو تیار ہی نہ تھے اور ہمیں غلطی پر گردانتے رہے۔بہر حال بہت کوشش کی گئی مگر بے سود ! رات دیر تک ان سے بحث ہوتی رہی مگر انہوں نے ماننے سے انکار کر دیا۔یہ لمحات بہت تکلیف دہ تھے۔چونکہ اس سارے پروگرام کو میں نے ترتیب دیا تھا اور سارے انتظامات بھی میں نے کئے تھے اس لئے بہت زیادہ پریشانی ہوگئی۔کیونکہ اگر یہ وفد جرمنی جلسہ پر نہ جا سکا تو جماعتی مالی نقصان کے علاوہ حضور انور کو سخت پریشانی ہوگی اور ظاہر ہے یہ ساری پریشانی میری غلطی کی وجہ سے ہوگی۔اس صورت حال نے بہت زیادہ پریشان کر دیا۔سب ہی فکرمند تھے لیکن میری اذیت کی حالت میں ہی جان سکتا تھا۔اس صورت حال سے مایوس ہوکر میں ایک طرف چلا گیا اور علیحدگی میں جا کر اپنی بے بسی پر بے اختیار رونا شروع کر دیا اور ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور گڑ گڑا کر دعا کی کہ یا اللہ تو مشکل کشا ہے اس مصیبت سے نجات عطا فرما اس سے کچھ تسکین سی ہوگئی۔اس کے بعد دوبارہ ایئر پر تگال کے دفتر میں گیا اور ان کو بتا یا کہ غلطی ہماری نہیں بلکہ آپ کے آفس والوں کی ہے کیونکہ جب ایئر ٹکٹ آپ کے ڈا کار آفس سے خریدے تھے تو ان سے اس سلسلہ میں استفسار کیا گیا تھا۔آپ کے متعلقہ آفیسر نے بتایا کہ Visa کی ضرورت نہیں، آپ ڈاکار ایجنسی کے فلاں صاحب سے Confirm کرلیں۔ایئر پورٹ پر آپ کے متعینہ آفیسر نے جہاز پر سوار ہونے سے قبل یہ پاسپورٹس چیک کئے۔بعد ازاں جہاز پر سوار ہونے کی اجازت دی تھی اگر یہ پاسپورٹ درست نہ تھے تو ہمیں ادھر ہی روک لیتے۔اس لئے آپ ہمیں غلط نہیں کہہ سکتے بلکہ غلطی آپ کے آفس والوں کی ہے اور اس ساری پریشانی کی ذمہ داری آپ کی ایئر لائن والوں کی ہے۔اب اگر ہم واپس چلے گئے تو نتائج کے ذمہ 165