ارضِ بلال — Page 79
ارض بلال- میری یادیں ) باری باری اپنے گھر آتے جاتے رہتے ہیں۔ان کو لوگ نار کہتے ہیں۔شاید رنگ کے باعث۔رمضان میں روزے نہیں رکھتے ، کہتے ہیں ہم مسافر ہیں۔اکثر اوقات غنسل سے احتراز کرتے ہیں۔برلب در یا بیٹھ کر بھی تیم کر لیتے ہیں۔لباس خریدنے میں فراخ دلی سے کام لیتے ہیں۔قہوہ بہت پیتے ہیں۔اس قہوہ کی تیاری میں کئی گھنٹے صرف ہو جاتے ہیں۔مذہبی طور پر شدت پسند اور جذباتی ہیں۔تعلیمی معیار کافی پست ہے۔مہمان نوازی کا وصف عربوں کے لئے بہت مشہور ہے۔یہ خوبی اس قوم میں بھی پائی جاتی ہے۔موریطانیہ میں اسیری 1984ء میں مکرم داؤ د احمد حنیف صاحب، ایک سینیگالی معلم مکرم حامد مبائی صاحب اور ایک سینیگالی احمدی بھائی مکرم محمد آؤ صاحب کے ہمراہ موریطانیہ میں تبلیغ کے لئے تشریف لے گئے۔چند دن تک تو یہ لوگ بڑے اچھے طریق پر موریطانیہ کے دارالحکومت نواکشاط میں تبلیغ کرتے رہے۔شہر بھر میں انہوں نے کئی تبلیغی پروگرام کئے بعض بیعتیں بھی ہو ئیں لیکن اس دوران بعض مولویوں نے جا کر پولیس کے ہاں ان کی شکایت کر دی۔جس پر پولیس نے آکر ان تینوں کو گرفتار کر لیا اور حوالات میں بند کر دیا۔کافی سوال وجواب اور تحقیق کے بعد پولیس نے مکرم داؤ داحمد حنیف صاحب کو تو چند سو کلومیٹر ز دور سینیگال کے بارڈرز پر لا کر چھوڑ دیا اور بقیہ دونوں دوستوں کو ملکی قوانین کے تحت نہ نکال سکے جو بعد میں بخیریت واپس آگئے۔الحمد للہ۔مکرم حمید اللہ ظفر صاحب نصرت ہائی سکول میں بطور ٹیچر خدمت کر رہے تھے۔دومرتبہ سکول کی تعطیلات میں موریطانیہ کے دورہ پر گئے۔دوسری بار انہیں سرحد سے ہی واپس کر دیا گیا۔ایک بنین کے احمدی دوست موریطانیہ میں ملازم تھے۔ان کی شکایت ہوئی۔جماعت کی چند کتب انہیں ملیں جس پر انہیں کافی 79