ارضِ بلال — Page 69
- میری یادیں - کے قریب چند کرسیاں پڑی ہوئی تھیں۔میں نے سوچا کوئی ریستوراں ہے۔میں اندر چلا گیا۔اس خاتون کو انگریزی میں سلام کیا۔اس نے اپنی زبان میں کچھ بات کی جسے میں نہ سمجھ سکا۔اسے میں نے اشارہ سے بتایا کہ میں نے کھانا کھانا ہے۔اس نے زور سے کسی کو آواز دی جس پر کمرے سے ایک نوجوان باہر آ گیا۔وہ میرے پاس آیا اور مجھے اپنی زبان میں کہنے لگا کیا بات ہے؟ میں نے انگریزی میں اسے بتایا کہ میں پرتگیزی زبان نہیں بول سکتا۔اس پر اس نے انگریزی میں بات چیت شروع کر دی۔مجھے یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔اس نے مجھے بتایا کہ یہ ریستوراں نہیں ہے بلکہ ہمارا گھر ہے۔میں نے اسے کہا میں شہر میں نو وارد ہوں۔کیا وہ میری کسی ریستوراں کی طرف راہنمائی کر سکتا ہے۔اللہ اس کا بھلا کرے۔میرے ساتھ چل پڑا۔راستہ میں میں نے اسے بتایا کہ میں مسلمان ہوں اس لئے میں نے ایسا کھانا کھانا ہے جس میں کوئی حرام چیز نہ ہو۔مجھے وہ ایک متوسط درجہ کے ریستوراں میں لے گیا۔میں نے آملیٹ کے لئے کہا۔وہ نوجوان بھی میرے ساتھ ہی بیٹھ گیا۔میں نے اس نوجوان کو بھی کھانے کے لئے دعوت دی مگر اس نے انکار کر دیا۔میں نے کافی اصرار کیا مگر نہ مانا لیکن میرے پاس بیٹھا رہا۔میں نے اسے اپنے بارے میں بتایا کہ میرے دو مسائل ہیں۔ایک تو میں نے ہوٹل میں نہیں رہنا۔کسی ستے کمرے میں رہنا ہے۔دوسرے میں مسلمان ہوں۔اگر مجھے کوئی اپنے گھر میں میری پسند کا کھانا بنادے تو میں اس کی ادائیگی کر دوں گا۔کہنے لگا کھانے کے بعد ہمارے گھر چل کر میری ماں سے بات کرتے ہیں۔امید ہے وہ آپ کو کھانا پکا دیا کرے گی اور مکان کا مسئلہ بھی میں آپ کا حل کر دوں گا۔اس کے بعد میں اس نوجوان کے ساتھ اس کے گھر چلا گیا۔اس کی والدہ میرا کھانا پکانے پر راضی ہو گئی اور پھر مجھے ایک سرائے میں کمرہ بھی مل گیا اور سب سے بڑی بات یہ ہوئی کہ مجھے اس نوجوان کی صورت میں ایک ترجمان بھی مل گیا۔جتنا عرصہ میں اس ملک میں رہا یہ نو جوان میرے ساتھ ساتھ رہا۔مجھے اب صحیح یاد نہیں ہے۔مجھے لگتا ہے کہ اس قیام کے دوران چودہ بیعتیں ہوئی تھیں۔69