ارضِ بلال

by Other Authors

Page 63 of 336

ارضِ بلال — Page 63

ہیں۔ارض بلال۔میری یادیں مد انیسویں صدی میں جب غلامی کا خاتمہ ہوا تو اس کا زوال شروع ہو گیا۔مقامی آبادی نے آزادی کی تحریک شروع کی۔قتل و غارت ہوئی اس کے بعد انہیں آزادی مل گئی۔ہ اب کچھ لوگ ہمسایہ ممالک سے تجارت کی غرض سے وہاں آگئے ہیں۔چند چھوٹی چھوٹی مساجد بھی بن گئی ہیں جو سینیگال اور گنی کوناکری کے باشندوں نے بنائی ہ کسی زمانہ میں دنیا بھر میں پرتگیزی قوم کا طوطی بولتا تھا۔اب تو صرف پانچ ممالک ہیں جہاں پر یہ زبان بولی جاتی ہے اور وہ پرتگال، برازیل، گنی بساؤ، کیپ ورڈ، اور کونگو ہیں اور یہ سارے ملک ہی اب دنیا بھر میں غریب ممالک کے طور پر شمار ہوتے ہیں۔کیپ ورڈ میں احمدیت کا نفوذ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ یہ وعدہ فرمایا تھا کہ میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔اس عہد خداوندی کی تکمیل اور حضرت مسیح پاکٹ کے روح پرور اور جاودانی کلمہ حق اور جانفزا پیغام کو اقوام عالم کی روحانی تشنگی فروکرنے کی خاطر مرکز نے مختلف مشنوں کے ذمہ ان کے کچھ قریبی ہمسایہ ممالک لگا رکھے ہیں۔اس سلسلہ میں گیمبیا جماعت کے پاس سینیگال، گنی بساؤ ، موریطانیہ، ویسٹرن صحارا اور کیپ ورڈ کے ممالک تھے۔ان ممالک میں سے گنی بساؤ اور سینیگال کے ساتھ چونکہ گیمبیا کے ساتھ سرحدی رشتہ ہے جس کے ناطے خدا تعالیٰ نے ان ممالک میں نفوذ احمدیت کے اسباب بآسانی پیدا فرما دیئے۔جس کے نتیجہ میں وہاں پر کام شروع ہو گیا اور پھر مبلغین کرام اور معلمین کی شب و روز کی محنت اور انتھک کوششوں اور دعاؤں کے نتیجہ میں اس کے شیریں ثمرات بھی بہت جلد ملنے شروع ہو گئے اور بفضلہ تعالیٰ ان دونوں ممالک میں مخلص اورمستحکم جماعتیں بھی قائم ہوگئیں۔63