ارضِ بلال — Page 54
ارض بلال- میری یادیں ) سردی۔میری ایک پاکستانی سفیر صاحب سے علیک سلیک تھی۔ایک روز کہنے لگے میں نے دنیا کی بہت سیر کی ہے لیکن ڈاکار جیسا موسم کہیں نہیں دیکھا۔یہاں کی تجارت پر لبنانی حضرات کا قبضہ ہے۔کہتے ہیں دنیا میں لبنانی صرف کھانے پینے اور عیش و عشرت کے لئے ہی آئے ہیں۔میرے ایک دوست لبنانی تھے، ایک دن مجھے کہنے لگے استاذ ! دنیا میں تم جہاں بھی جاؤ گے، آپ کو لبنانی ضرور ملیں گے لیکن ایک ایسی جگہ ہے جہاں پر آپ کو کوئی لبنانی نہیں ملے گا۔میں نے حیرانگی کے ساتھ اُسے پوچھا، وہ کونسی جگہ ہے؟ کہنے لگا جنت میں۔چونکہ اس شہر میں لبنانی حضرات کی ایک خاصی تعداد ہے جو کئی نسلوں سے یہاں پر رہ رہی ہے۔اس لئے اس شہر میں آپ کو دنیا بھر کی نعمتیں بآسانی مل جاتی ہیں بشرطیکہ جیب اجازت دیتی ہو۔چند دن اس بزرگ مہربان چوکیدار کے گھر سے کھانا کھایا ، اس کے برآمدے میں بڑے مزے سے سوئے اور پھر بادل نخواستہ ، وہاں سے روانہ ہو کر تانبا کنڈا شہر پہنچے۔رات بس کے اڈے پر گزاری اور پھر اگلے روز واپس اپنے شہر بھتے پہنچ گئے۔دورہ مکرم چوہدری حمید اللہ صاحب وکیل اعلیٰ 1985 ء میں مکرم چوہدری حمید اللہ صاحب وکیل اعلی ، مغربی افریقہ کے چند ممالک کے جماعتی دورہ پر تشریف لائے۔آپ اس دورہ کے دوران گیمبیا میں بھی تشریف لائے۔ملک بھر کی جماعتوں کا ایک تربیتی دورہ کیا۔اس کے بعد جماعت کے مختلف ادارہ جات کے افسران سے ضروری میٹنگز کیں۔ان میں سے ایک میٹنگ آپ نے مبلغین و متعلمین کے ساتھ بھی کی جس میں آپ نے سب مبلغین و همین۔معلمین کے کام کا جائزہ لیا۔سینیگال میں بطور پہلے مرکزی مبلغ احمدیت مبلغین سے ایک میٹنگ کے دوران آپ نے مکرم امیر صاحب کو ارشاد فرمایا کہ خاکسار کو سینیگال میں بطور مبلغ بھیج دیں۔اس ارشاد کی تعمیل میں مجھے امیر صاحب نے سینیگال جانے کے 54