ارضِ بلال

by Other Authors

Page 53 of 336

ارضِ بلال — Page 53

۔میری یادیں ڈاکار میں آمد اس کے بعد ہم ڈاکار پہنچے۔ڈاکار میں سب سے بڑا مسئلہ رہائش کا تھا۔احمد لی صاحب کے ایک دور کے عزیز کسی محکمہ میں چوکیدار تھے۔ہم ان کے پاس چلے گئے۔وہ ہمیں بڑے تپاک سے ملے اور ہمیں خوش آمدید کہا۔ان کی اپنی رہائش ایک بڑے سے گیراج نما کمرہ میں تھی جس کے باہر ایک برآمدہ سا تھا۔وہ انہوں نے بڑی فراخ دلی کے ساتھ ہمیں پیش کر دیا۔یہ برآمدہ ہمارے لئے ایک نعمت غیر مترقبہ ثابت ہوا۔اس برآمدہ میں قالین نما گدے سے پڑے ہوئے تھے۔ہم اس پر ایک طرف دراز ہو گئے۔یہ فیملی بڑی ہی مہمان نواز تھی۔انہوں نے باوجود اپنی غربت و افلاس کے ہمارا بہت خیال رکھا۔میاں بیوی دونوں ہی فرشتہ سیرت بزرگ تھے۔ہم نے انہیں حسب توفیق جماعت کا تعارف کرایا جو انہوں نے بڑے غور سے سنا لیکن بیعت نہیں کی۔پتھر سے تیم یہ صاحب بڑی عمر کے تھے۔بہت دیندار قسم کے آدمی تھے۔ظہر کے وقت کافی لوگ ان کے ہاں آگئے اور انہوں نے اسی برآمدہ میں نماز ادا کرنی شروع کر دی۔میں نے دیکھا کہ جب بھی کوئی آدمی باہر سے آتا ہے وہ ایک جانب پڑے ہوئے پتھر کو اٹھا کر اس پر ہاتھ ملتا ہے۔پھر اسے واپس وہیں رکھ دیتا ہے۔میں نے احمد لی سے پوچھا، یہ لوگ کیا کرتے ہیں؟ اس نے بتایا کہ اس پتھر پر تیم کرتے ہیں۔دراصل یہ لوگ موریطانیہ کی سرحد کے قریب کی بستیوں سے ہیں۔اس لئے ان کی عادات بھی موریطانین کی طرح ہیں۔موریطانین صحرائی لوگ ہیں، وہاں پانی کی بہت کمی ہے۔اس لئے پانی بڑی ہی احتیاط سے استعمال کرتے ہیں۔اب تو ان کی ایسی عادت بن چکی ہے کہ اگر یہ لوگ دریا کے کنارے پر بھی ہوں تو پھر بھی تیم ہی کرتے ہیں۔ڈاکار کی۔ڈاکار ایک بہت ہی خوبصورت شہر ہے۔اس کے موسم کا کیا کہنا! سارا سال نہ گرمی ہے نہ اک اک کام کا سارا سال تہ گری ہے نہ 53