ارضِ بلال — Page 308
ارض بلال۔میری یادیں ) اس دوران فیملی ربوہ سے روانہ ہو کر کراچی پہنچ گئی۔کراچی سے فیملی نے ایتھوپیا ایئر لائن کے ذریعہ ایک طویل روٹ لیکر پہلے سینیگال آنا تھا۔پھر ایئر پورٹ سے ہی ایک دوسرا جہاز لے کر گیمبیا روانہ ہو جانا تھا۔اب ادھر گیمبیا کے احباب جماعت نے ہی انہیں ریسیو کرنا تھا اور رہائش وغیرہ کا انتظام کرنا تھا۔اس کیفیت میں میں سخت پریشان تھا۔کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔فیملی اب کراچی میں تھی۔چند دن بعد انہوں نے سینیگال کے ڈاکار ایئر پورٹ پر پہنچنا تھا اور مجھے ملے بغیر آگے گیمبیا کوروانہ ہو جانا تھا۔اسی کشمکش میں تھا کہ مجھے اچانک کسی ضروری کام کی غرض سے شہر جانا پڑ گیا۔ایک بازار سے گزر رہا تھا کہ کسی شخص نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا۔میں نے واپس مڑ کر دیکھا تو یہ میرے ایک پرانے سینیگالی دوست مکرم عمر جوب صاحب تھے جو پولیس انسپکٹر تھے۔کئی سال سے گیمبیا سینیگال کے بارڈر پر بطور انچارج متعین تھے۔میری رہائش بھی ان دنوں اس سے قریبی شہر فرافینی میں تھی۔اس لئے ان کے ساتھ میرے بڑے اچھے دوستانہ مراسم تھے۔مجھے کہنے لگے، استاذ آپ کب ڈاکار آئے ہیں؟ میں نے بتایا میں تو اب ڈاکار میں ہی آگیا ہوں۔بڑے خوش ہوئے۔ان کے ساتھ ایک اور انسپکٹر پولیس بھی تھے۔ان کے ساتھ بھی میرا تعارف کرایا اور کہنے لگے مجھے اس وقت بڑی جلدی ہے۔ہم ایک ضروری کیس کے لئے جار ہے ہیں۔اسی دوران اس نے اپنا وزٹنگ کارڈ میرے ہاتھ میں تھما دیا۔اور کہا اگر کوئی ضرورت ہو تو ضرور رابطہ کرنا۔اس اچانک اور اتفاقی ملاقات کے بعد وہ جلدی سے اپنے مشن کو روانہ ہو گئے۔میں بھی اپنے کام سے فارغ ہو کر واپس گھر آ گیا۔اب وہی فیملی والا مسئلہ دل و دماغ پر چھایا ہوا تھا۔کوئی حل نظر نہیں آرہا تھا۔پھر اچانک مجھے عمر جوب کا خیال ذہن میں آیا۔کیوں نہ اسے اس مسئلہ کے بارہ میں بتایا جائے شاید وہ اس مشکل کا کوئی حل نکال لے۔میں نے اس کے وزٹنگ کارڈ پر دیئے گئے فون نمبر پر اس سے رابطہ کیا۔الحمد للہ رابطہ ہو گیا۔اسے میں نے اپنے گھر آنے کے لئے 308