ارضِ بلال — Page 291
ارض بلال۔میری یادیں ) لگے کہ آپ نے کون سے مینار بنانے ہیں؟ ربوہ میں مسجد اقصی یا مسجد مبارک والے۔ان کی بات پر کسی نے کوئی خاص دھیان نہیں دیا کیونکہ بظاہر وہ بہت معمولی قسم کے کاریگر لگتے تھے اور غالباً ایک دن کے لئے بھی سکول نہ گئے ہونگے۔اگلے روز عبدالحمید صاحب ایک کاغذ پر میناروں کے مختلف نقشے بنا کر لے آئے۔ہم سب دیکھ کر حیران ہو گئے۔کیونکہ نقشے بہت خوبصورت بنے ہوئے تھے۔اس کے بعد انہوں نے مینار بنانے شروع کر دیئے۔مکرم حمید صاحب نے خود ہی سارا ساز وسامان تیار کیا اور بڑی محنت اور جانفشانی سے کام شروع کر دیا۔ہر روز ہمیں ان کے ہنر کا کوئی نیا پہلو دیکھنے کو ملتا۔نہ جانے کس طرح انہوں نے بڑے ہی عالیشان مینار بنا دیئے جو پورے گیمبیا میں لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گئے۔بعض اوقات سیاح حضرات آکر ان میناروں کی تصاویر بھی لیتے تھے۔اس مسجد کے مینار دور دور سے نظر آنے کے سبب ہر آنے جانے والے کے لئے کشش کا باعث بنتے ہیں اور جماعت احمدیہ کے تعارف کا بہت بڑا ذریعہ بن گئے۔اس کے بعد مکرم حمید صاحب کو لائبیریا اور گنی بساؤ میں بھی مساجد بنانے کی سعادت نصیب ہوئی۔اس طرح اللہ تعالیٰ نے ایک ان پڑھ آدمی سے اتنا بڑا کام لیا کہ بڑے بڑے پڑھے لکھے اس کے مقابل پر پیچ نظر آتے ہیں۔یہ کام خدا کے ہیں۔جس سے چاہے کام لے۔291