ارضِ بلال — Page 282
ارض بلال- میری یادیں) کا وقت تھا۔سڑک کشادہ اور خالی تھی۔قریب ترین گاؤں وہاں سے تقریبا پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر ہوگا۔وہاں پہنچے اور ایک سکول کے ہیڈ ماسٹر صاحب کے ہاں رات بسر کی۔صبح ہوئی۔اب گاڑی کو آگے کی طرف چلانا تو سیکھ گیا تھا۔پیچھے کی طرف جانے کے طریق کا علم نہ تھا۔تھوڑی سی تگ و دو کی تو پیچھے کے گیئر سے بھی شناسائی ہوگئی۔اس کامیابی کے بعد میں پہلے سے زیادہ اعتماد کے ساتھ کار واپس دریا پر لے آیا۔دوسری طرف عثمان صاحب بھی واپس آچکے تھے۔ان کی رات کو واپس نہ آنے کی اپنی داستان تھی۔بہر حال اب اس ساری پریشانی کا ایک نتیجہ یہ ہوا کہ میں ڈرائیور بن گیا۔کیونکہ ہمارا اکثر سفر دیہاتوں کا تھا۔سب کچے رستے تھے۔جہاں ٹریفک وغیرہ نہ تھی۔اس لئے اس دورہ کے دوران مجھے ڈرائیونگ کا خوب موقع مل گیا اور میں ایک با اعتماد ڈرائیور بن گیا۔امیر پیٹرول پر اور گاڑی دعاؤں سے چلتی ہے مکرم ڈاکٹر سعید احمد خان صاحب انگلستان جماعت کے ایک بہت ہی مخلص اور وفادار دوست تھے۔دو بار وہ اپنی اہلیہ محترمہ کے ہمراہ گیمبیا تشریف لائے۔ڈاکٹر صاحب موصوف امراض جلد کے ماہر تھے۔ان دورہ جات کے دوران آپ نے ملک بھر میں جماعت کے بڑے مراکز میں طبی سٹال لگائے اور عوام الناس کی بفضل ایزدی خوب خدمت کی۔ان کی اہلیہ محترمہ نے بھی اس کارخیر میں ان کا بھر پور ساتھ دیا۔فجزاهم الله تعالی۔ایک بار تو کافی سارے موٹر سائیکل بھی گیمبیا جماعت کے لئے بطور تحفہ لائے تھے۔جو گیمبیا میں معلمین کرام کو دیئے گئے تھے۔انہیں دعوت الی اللہ کا بہت شوق تھا۔ہر کس و ناکس تک دعوت حق پہنچانے کی پوری کوشش کرتے۔اور خدا کے فضل سے انہیں اس کے پھل بھی ملے اور کئی بیعتیں بھی ان کے ذریعہ سے ہوئیں۔282