ارضِ بلال — Page 281
ارض بلال۔میری یادیں کے باعث کچھ تاخیر ہوگئی۔خیر دوسری جانب بارہ کی طرف پہنچے اور کیر یوان کو روانہ ہو گئے۔جب ہم دریا کے کنارے پہنچے تو معلوم ہوا کہ فیری جا چکی ہے۔کافی انتظار کیا مگر فیری دوسری جانب سے واپس نہ آئی۔مکرم عثمان باہ صاحب کہنے لگے۔میں کشتی کے ذریعہ دوسرے کنارے پر جاتا ہوں اور جا کر فیری والوں سے واپس آنے کی درخواست کروں گا تو امید ہے وہ واپس آکر ہمیں دوسری طرف لے جائیں۔اس پر عثمان صاحب ایک کشتی کے ذریعہ روانہ ہو گئے۔اب ہم اس طرف بے چینی کے ساتھ محو انتظار تھے۔کافی دیر گزرگئی مگر عثمان صاحب واپس نہیں آئے۔ادھر اب آہستہ آہستہ اندھیرا چھانا شروع ہو گیا تھا اور ہمارے آس پاس سوائے چند ایک دکانداروں کے باقی لوگ اپنا ساز وسامان سمیٹ کر اپنے اپنے گھروں کو جاچکے تھے۔اب دریا کا کنارہ ہے اور قریب قریب آبادی کا کوئی نام ونشان نہیں ہے اور ہم لوگ اس علاقہ میں مسافر اور نو وارد ہیں۔گاڑی کا رخ عین دریا کی طرف ہے اور برلب دریا کھڑی ہے۔ڈرائیور ہمارے پاس موجود نہیں ہے اور مجھے بخار بھی ہو گیا تھا۔اب اس صورت حال میں سخت پریشانی شروع ہو گئی۔جب کافی دیر ہوگئی۔مغرب کے بعد عشاء کی نماز کا وقت بھی گزر گیا۔اب رات کی تاریکی کے باعث دریا کا پانی بھی نظروں سے اوجھل ہو گیا۔اب تو عثمان صاحب کی دوسری طرف سے واپسی کی امید کی کرن بھی بجھ گئی۔میں نے ڈرتے ڈرتے اپنے ساتھی مسافروں اور چند دیگر موجودلوگوں سے درخوست کی کہ میری کار کو آگے کی طرف سے پیچھے کو دھکیلیں۔جس پر ان لوگوں نے گاڑی کو پیچھے کی جانب دھکیلنا شروع کر دیا اور میں گاڑی کو قریباً دوسو میٹر دریا سے دور لے گیا اور اس کا رخ میں نے دوسری جانب کر لیا۔اتفاق سے عثمان صاحب کار کی چابی اپنے ساتھ لے کر نہیں گئے تھے۔میں نے گاڑی سٹارٹ کرنے کی کوشش کی ، گاڑی سٹارٹ ہو کر بند ہو جاتی۔وہاں پر موجود ایک آدمی نے بتایا کہ کیچ کو دبا کر رکھو تو پھر سٹارٹ ہوگی۔خیر میں نے چند بار کوشش کی اور بفضل خدا کامیاب ہو گیا۔چونکہ میں موٹر سائیکل تو چلایا ہی کرتا تھا۔اس انداز پر آہستہ آہستہ کار کو چلانا شروع کر دیا۔رات 281