ارضِ بلال — Page 280
ارض بلال- میری یادیں) تک دھکے لگائے۔جس پر گاڑی سٹارٹ ہو گئی۔ہم لوگ سیدھے فیری ٹرمینل جو وہاں سے چند کلو میٹرز کے فاصلہ پر تھا، پہنچے۔فیری کی انتظامیہ سے بیٹری چارج کرنے کے سلسلہ میں درخواست کی جو انہوں نے بخوشی سرانجام دے دی۔فجزاهم الله تعالی۔اس طرح نصف گھنٹے کا سفر بارہ گھنٹے میں طے کر کے ہم لوگ مکرم ڈاکٹر منور احمد صاحب کے دولت خانہ پر پہنچے جو رات بھر ہمارے لئے پریشان اور منتظر رہے تھے۔ضرورت ایجاد کی ماں ہے 1988ء کے اوائل میں مرکز نے پہلی بار گیمبیا جماعت کو جاپان مشن کی وساطت سے تین پرانی کاریں بجھوائیں۔گیمبیا میں ڈرائیونگ دائیں طرف ہے۔اب جو کاریں ہمیں ملیں وہ بائیں جانب ڈرائیونگ والی تھیں۔ان کاروں کوملکی قوانین کے تحت گیمبیا میں چلا ناممکن نہ تھا۔دوسری جانب تھوڑے ہی عرصہ کے بعد حضرت خلیفہ اسیح الرابع گیمبیا کے تاریخی دورہ پر تشریف لا رہے تھے۔جس کی تیاری ، بھاگ دوڑ اور جماعتوں سے فوری رابطہ کے لئے گاڑیوں کی اشد ضرورت تھی۔ضرورت ایجاد کی ماں ہوتی ہے۔ایک لوکل مکینک کو گاڑیاں دکھائیں۔اس نے بڑی مہارت کے ساتھ گاڑیوں کے فرنٹ حصے کاٹ کر سٹیرنگ دوسری جانب کردیے۔پھر ان گاڑیوں کو کئی سال تک جماعت کی بہت خدمت کی توفیق ملی۔حضور انور کی آمد سے کچھ دن پہلے مکرم امیر صاحب نے ایک کار مجھے دی اور مکرم عثمان باہ صاحب بطور ڈرائیور ساتھ تھے اور ارشاد فرمایا کہ میں گیمبیا اور سینیگال کی جماعتوں کا ایک دورہ کروں۔ان دنوں مجھے کار ڈرائیونگ نہ آتی تھی۔ہاں ایک موٹر سائیکل میرے زیر استعمال ہوتی تھی۔حسب پروگرام بعد از دو پہر بانجول سے روانہ ہوئے۔ہمارے ساتھ ایک مستری صاحب تھے اور ایک خاتون تھیں جو عثمان باہ صاحب کی کوئی عزیزہ تھیں۔ہمیں امید تھی کہ شام تک صبا جماعت میں پہنچ جائیں گے، بانجول سے بارہ کی طرف بذریعہ فیری جانا تھا۔فیری بر وقت نہ ملنے 280