ارضِ بلال

by Other Authors

Page 255 of 336

ارضِ بلال — Page 255

ارض بلال۔میری یادیں ) ایک احمدی دوست دکاندار تھے جن کا نام محمد جوب صاحب تھا سو چا انہیں سلام کر لیں۔جب ان کے پاس گیا تو باتوں باتوں میں انہوں نے بتایا کہ ہماری ایک کتاب اخبار لاسولیل میں چھپی ہے اور انہوں نے اپنی الماری سے وہ اخبار نکال کر مجھے دے دیا۔اس اخبار کے اس طرح اچانک ملنے پر مجھے بڑی خوشی ہوئی۔اخبار کے پہلے صفحہ پر یہ مضمون تھا۔اس مضمون کے آغاز میں ایک سینیگالی شخص کی چھوٹی سی تصویر تھی اور اس کے بعد شاہ سرخی کچھ یوں تھی : ”نبی آسکتا ہے۔“ اس کے نیچے لکھا تھا: ایم۔اے۔درد امام مسجد لندن لکھتے ہیں۔لیکن احمدیت کا کہیں بھی ذکر نہ تھا۔بعد ازاں پوری کی پوری کتاب من وعن شائع شد تھی۔امام لاء کی قبر پر السلام علیکم یا نبی اللہ ایک روز میں جماعت کے ایک معلم صاحب کے ساتھ صبح کی نماز کے وقت لائن فرقہ کی جامع مسجد میں گیا۔ان کی یہ مسجد ڈا کار کے محلہ یوف میں واقع ہے۔صبح کی نماز میں ہیں کے قریب نمازی تھے۔نماز سے فارغ ہو کر سب نمازی امام لاء کی قبر پر حاضری کے لئے چل پڑے۔یہ قبر ساحل سمندر کے قریب ہے۔ہم لوگ بھی ان نمازیوں کے ساتھ قبر کی طرف چل پڑے۔پہلے سب لوگ مسجد سے نکلے۔ایک سو میٹر تک چلے ہوں گے۔تو ایک بڑے سے میدان میں داخل ہو گئے۔جس کے ارد گرد چاردیواری سی بنی ہوئی تھی۔یہ میدان سمندر کا ساحل ہونے کی وجہ سے ریتلا تھا۔ہمیں بتایا گیا کہ یہ مقدس زمین ہے۔اس کے بعد ایک کمرہ میں داخل ہو گئے جس کے اندر ایک قبر تھی۔جیسے ہی لوگ اس کمرہ میں داخل ہوئے۔سب لوگوں نے بآواز بلند کہا: السلام علیکم ورحمتہ اللہ یا نبی اللہ۔اس کے بعد انہوں نے اپنے اپنے انداز میں دعا کی اور اس کے بعد اپنے اپنے گھروں کو چل دیئے۔اس فرقہ کی ملک میں کوئی مخالفت نہیں ہے۔ان کا ہر سال ایک میلہ ہوتا ہے۔جس میں 255